مجھ شہ کوں جگ دیکھو بارے آوے ہمارے دیس
کس کس جانب تجلی کہتے کیوں کیوں لیایا بھیس
پھرا کر اپس کے سوا اِس بھیس کوں
پوسٹ دیس چل جائیں پردیس کوں
(ابراہیم نے) کہا کہ میں تو دیس چھوڑ کر اپنے پروردگار کی طرف جہاں کہیں اُس کو منظور ہو نکل جاؤں گا.
(۱۸۹۵ ، ترجمۂ قرآن مجید ، نذیر احمد ، ۲ : ۵۸۳).
ہم مرار کی چھاؤنی سے چھٹی لے کر دیس جاتے ہیں .
(۱۹۰۳ ، سرشار بچھڑی ہوئی دلہن ، ۸۲).
سرزمین پاک ایراں ، ہائے فردوسی کا دیس
حوریں پھرتی ہیں بدل کر آدمی زادوں کا بھیس
مگر لتا سے تو پاکستان میں بھی مقر نہیں اور وہ ، تو اس دیوی کا دیس تھا .
(۱۹۸۴ ، زمیں اور فلک اور ، ۱۶).
چرخ سے کرتے تھے لنگر جب ہبیس
تھے خلاصی دیس کے گاتے تھے دیس
چوتھا راگ دیپک اس کی فصل گریکھم رُت ہے اور اس کا وقت میانہ روز ہے اور اول راگنی اس کی دیس ہے وقت اس کا اوائل شب ہے.
(۱۸۴۵ ، مطلع العلوم (ترجمہ) ، ۳۴۷).
ٹھیک خوب دیس کو نباہا ہے ، واہ میں نے گانے کی سند آپ سے کب مانگی تھی .
(۱۹۱۴ ، راج دلاری ، ۴).
یہ سُر کلاسیکی موسیقی میں دیس کہلاتا ہے .
(۱۹۷۴ ، عکسِ لطیف ، ۱۲۲) .