۱. ایک بڑا درخت اور اس کی لکڑی. یہ درخت بستانی ، صحرائی اور کوہی ہے ، یہ چالیس برس میں پھلتا ہے ، اس کے پتّے اُوپر نیچے سے پتلے اور بیچ میں چوڑے اور لمبے ہوتے ہیں ، بعض کا کہنا ہے کہ پتّے امرود کے پتّوں کی طرح اور گول ہوتے ہیں ، اس کے پھل بیضاوی بُستانی بیر کی طرح ہوتے ہیں ، کچّے پھل رنگت میں گہرے سبز ہوتے ہیں اور جب گد ا جاتے ہیں تو رن٘گت سُرخ یاقوتی ہو جاتی ہے ، پکنے پر پھل سیاہ ہو جاتے ہیں ، پھل کے اندر گُھٹلی ہوتی ہے ، اس کے پھل کا تیل غذا اور دوا میں استعمال ہوتا ہے نیز اس سے چراغ روشن کرتے ہیں ، جلپانی کا پیڑ .
(ماخوذ : خزائن الادویہ ، ۴ : ۲۸۱) .
کیا ڈر مُجھے فرعون کا ، ہور سامری افسون کا
موسیٰ عصا زیتون کا ، ہے تیغِ ربّانی مُجھے
اشک ہے تیل شبِ ہجر میں اے جانِ سراج
ہر پلک حسرتِ زیتون ہے والتّیں کی قسم
حضرتِ جبریل ساج یا زیتون کی شاخ لائے اور حضرتِ نوح کو دی .
(۱۸۴۵ ، احوال الانبیا ، ۱۵۳) .
قسم انجیر کی اور زیتون کی اور طور سینین کی.
(۱۹۱۷ ، القرآن الحکیم ، ترجمہ مولانا محمود الحسن ، ۱۰۲۶) .
وہ حضرت احمد یمنی کے مزار کے قریب زیتون کے درخت تلے بیٹھے تھے.
(۱۹۸۱ ، سفر در سفر ، ۴۶) .
روغنِ زیتون ، جانور کے پاؤں میں ملیں تمام جوئیں اس کی بُو سے گِر جاویں گی.
(۱۸۸۳ ، صید گاہِ شوکتی ، ۱۴۷) .
نشیبی وادیوں میں جو سردی سے اور بھی محفوظ ہیں زیتون ، انگور ، تمباکو اور ہر قسم کا میوہ پیدا ہوتا ہے.
(۱۹۲۴ ، جغرافیۂ عالم (ترجمہ) ، ۲ : ۲۴۳) .
ضرورت کے وقت گھی اور زیتون سے علاج کرنا دُرست اور جائز ہے.
(۱۹۰۶ ، الحقوق و الفرائض ، ۱ : ۱۹۸) .
پسی ہوئی گندھک زیتون کے ساتھ مِلا کر اس جگہ پر لگاؤ.
(۱۹۴۷ ، جراحیاتِ زہراوی (ترجمہ) ، ۳۴) .
الزیتون سے ... اُس مقامِ مقدس کی قسم کھائی ہے جہاں پہ درخت بکثرت پائے جاتے ہیں.
(۱۹۳۲ ، القرآن الحکیم ، تفسیر شبیر احمد عثمانی ، ۱۰۲۸) .