دیور.
(۱۶۴۷ ، فرح الصبیان (مقالات شیرانی ، ۲ : ۱۲۳))
الوداع ، اے بھاوجو اے بھابھیو اے ہی بیو
آج دیور کی ہے رخصت اور رحلت الوداع
اکیلے مکان میں اگر رہوں زمانہ کہے گا کہ یما جوان جہان ہے دیور کے پاس رہتی ہو گی.
(۱۸۸۲ ، طلسم ہوش ربا ، ۱ : ۷۴۵)
تم امّاں جی گالی دیتی ہو ، پنّا : گالی کیسی دیور ہی تو ہے.
(۱۹۳۶ ، پریم چند ، خاک پروانہ ، ۲۰۹)
بلکہ معاشرے میں ساس ، سسر نند ، بھاوج ، دیور ، جیٹھ ، دیورانی جھٹانی کے چاؤ چونچلے ، ریشہ دوانیاں ، اچھے اور بُرے برتاوے سب کچھ موجود ہیں.
(۱۹۸۶ ، اردو گیت ، ۴۵)