۱. بوڑھا آدمی، ضعیف، بزرگ، وہ شخص جس کی عمر پچاس برس سے اوپر اور اَسی کے درمیان ہو.
شیخ وہ شخص جس کی عمر ساٹھ اور اَسی کے درمیان ہو .
(۱۹۸۱، فن تاریخ گوئی اور اس کی روایت ، ۱۱۶).
۲. سرگروہ، پیشوا .
دگر نوحؑ امامت کو لائق ہیں
جوپیغمبراں میں اُنو شیخ ہیں
(۱۶۴۹، خاور نامہ، ۸۳۴).
خانہ بدوش قوموں کے سرگروہ کو الخان، البیگ، والی، سردار یا شیخ کہتے ہیں.
(۱۸۸۸، حسن، اگست، ۷).
۳. عرب قبیلہ کا سردار، امیر .
ایسی محبت اور ایسی جاں نثاری کا خیرمقدم میں نے نہ کسی شیخِ قبیلہ کا اس کے قبیلے میں کبھی دیکھا نہ کسی بادشاہ کو اپنی رعایا میں ہوسکتا ہے.
(۱۹۱۹، جویائے حق، ۲: ۲۵).
۴. واعظ، فقیہ، عالم، فاضل، مذہبی علوم میں فائق.
تمن مکتب میں ننھوا داں برہ بحثاں سدا کرتے
سکاوَن علم شیخاں کوں نچھل کاہی کرن سکتا
(۱۶۱۱، قلی قطب شاہ، ک، ۲ : ۳).
کب اس عمر میں آدمی شیخ ہوگا
کتابیں رکھیں ساتھ گو ایک خربار
(۱۸۱۰، میر، ک، ۱۸۲).
جس راز کے معلوم کرنے کی تمنا ارسطو ، افلاطون، شیخ بوعلی اور رازی تک اپنے ساتھ قبر میں لے گئے.
(۱۹۳۴، ہمدرد صحت، جولائی، ۱۰۵ٖ).
۵. (تصوف) وہ انسان جو شریعت و طریقت میں کامل ہو اور بیعت لیتا ہوا، مرشد، پیرِطریقت، سجادہ نشین.
چندے دیگر اولیا
مشایخ ہمچو شیخ ضیا
(۱۵۰۳، نوسرہاز (اردو ادب، ۶، ۲ : ۵۰)).
کاں لک لکھوں شیخ کے مراتب
ہوتا اوسے یک ہزار کاتب
(۱۷۰۰، من لگن، ۱۵).
ایک روز اپنے مرشد پیرِ طریقت کے پاس جاکر گلہ کرنے لگا شیخ یہ بات سن کر رو دیا.
(۱۸۵۵، گلستان، ۲۶۲).
امام سخاوی نے اپنے شیخ کا یہ سراپا تحریر کیا ہے.
(۱۹۶۸، المعارف، اپریل، ۲۶۳).
۶. (i) سردار، رئیس ؛ (اسطلاحاً) مسلمانوں کی (سید، مغل، پٹھان کی مانند) ایک ذات کا نام .
اُتھے سید عرب ہور شیخ بھی واں
قریشیاں ہور افغاناں و مغلاں
(۱۷۶۵، تتمۂ پھول بن (رسالہ اُردو، اپریل، ۶۸)، ۲۳).
شیخوں کی ایک اور تعداد نے جن میں مہدی کے لواحقین بھی شامل ہیں سردار کچنر کے پاس آکر اطاعت قبول کرلی ہے .
(۱۸۹۳، بست سالہ عہد حکومت، ۵۴۶).
شیخ، سید، سید صاحب، ... وغیرہ بیسیوں الفاظ نے... اصطلاحی حیثیت حاصل کرلی تھی.
(۱۹۲۲، مقالات ماجد، ۲۳).
(ii) مراد : ہر مسلمان بالعموم نومسلم.
برّعظیم میں کسی غیر مسلم خانوادے سے جو لوگ دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے ان کے نام کے ساتھ شیخ کا لفظ استعمال کیا جاتا رہا ہے.
(۱۹۷۳، دیوان دل (مقدمہ)، ۹۱).
۷. (مجازاً) ملّا، خود غرض واعظ ، نصیحت کرنے والا.
میری مینائے غزل میں تھی ذرا سی باقی
شیخ کہتا ہے کہ ہے یہ بھی حرام اے ساقی
(۱۹۳۵، بال جبریل، ۱۷).
۸. کلمۂ تخاطب کے طور پر .
وہ کہے اے شیخ مگر توں اس شہر میں مسافر ہے.
(۱۷۳۲، کربل کتھا، ۲۵۳).
سالک نے کہا اے شیخ تو بمنزلہ باپ کے ہے.
(۱۸۸۷، فصوص الحکم (ترجمہ)، ۳۵).
نہیں پانی تو میخانے میں اے شیخ
جو کچھ موجود ہے لاؤں وضو کو
(۱۹۱۷ ، کلیات حسرت موہانی، ۱۳۳).
[ ع ].
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .