اماں. . . رُخصتی کی تیاری ہو ہی رہی تھی.
(۱۸۸۱، صورت الخیال، ۴)
طبقات میں اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی مذکور ہے کہ . . . رُخصتی نہیں ہوئی تھی.
(۱۹۶۷، اُردو ، دائرۂ معارفِ اسلامیہ ، ۳ : ۲۵۲ )
کار بہ کثرت کے تحت انہیں شعر و نغمہ پر اچھَا خاصا عبور ہو جاتا ہے ، یہ مرثیے ، سہرے رخصتیاں اور مبارکبادیاں ، معیاری شعرا سے زیادہ اچھّی لِکھ پڑھ لیتے ہیں.
( ۱۹۷۳، جہانِ دانش ، ۵۷۰ )
رُخصتی : وہ نظم جو لڑکی والوں کی طرف سے شادی کے موقع پر اظہارِ محبت و تلقین کے طور پر لکھی جائے .
( ۱۹۸۳ ، اصنافِ سُخن اور شعری ہیئتیں ، ۱۹۴ )
رُخصتی کی گھڑی میں جوش ترقی کرتا نظر آتا تھا گویا دونوں طرف سے کوششیں ہو رہی تھیں کہ معرکے کو کل پر نہ اُٹھا رکھیں.
( ۱۸۸۸ ، ملک العزیز ورجنا ، ۵۷ )
عین رُخصتی کے وقت ، اس نامہ سیاہ نے سب کی آںکھ بچا ، مصافحہ کے بہانے سے ایک گُزارش کان میں کی.
( ۱۹۴۵ ، حکیم الامت ، ۲۴ )