تن دھونے سے دل جو ہوتا پوک
پیش رو اصفیا کے ہوتے غوک
کبیروں سے طبیعت کا میل دھونا .
(۱۴۲۱ ، بندہ نواز ، معراج العاشقین ، ۱۱)
زباں دھوکے پھل نیر سوں مکھ میں لاؤں
یو سید محمد حسینی کا ناؤں
ظاہر تھا مرے ہاتھ سو میں نے دھویا
باطن ہے ترے ہاتھ تو اس کو دھو دے
دھو گنا ہاں اپنے مصحف کے تلاوت سیتی تو
تج خلاصی تیں کرے حضرت دعائے سبحگاہ
زاہد کیا کرے ہے وضو گو کہ روز و شب
چاہے کہ دل سے دھوئے کدورت سو دھو چکا
خونِ ناحق ہوں وہ کس طرح سے کھوئے مجکو
رہوں گردن پہ میں دامن سے جو دھوئے مجھ کو
چشمِ باطن صاف کر لو دل کا دھو ڈالو غُبار
کچھ سمجھ لینا ہے آساں شاد کی تحریر
یہ بات تو ایک دن ہونا ہی ہے یہ تو ٹل نہیں سکتی آنسو اسے دھو نہیں سکتے .
(۱۹۶۱ ، سراج الدولہ ، ۱۳)
اے اخی بشارت ایسی دے کہ گردِ غم کُوں میرے دل سے دھو دے .
(۱۷۳۲ ، کربل کتھا ، ۶۸)
دھوتا تھا دل کے داغ چمن لالہ زار کا
سردی جگر کو دیتا تھا سبزہ کچھار کا
رو بیٹھے آخر دل کو ہم ہونا تھا جو وہ ہو گیا
اک درد تھا سو مِٹ چکا اک داغ تھا سو دھو گیا
پنجاب ، صوبۂ متوسط اور صوبۂ متحدہ میں بھی مٹی دھو کر سونا نکالنے سے قلیل مقدار نکلتی ہے .
(۱۹۴۰ ، معاشیاتِ ہند (ترجمہ) ، ۱ : ۴۳)
کہ بلوائی کچھ جمع ہونے لگے
وہ لِکّھا مقدر کا دھونے لگے
ایک فلم تصویروں کے لیے اور دوسری فلم آواز کے ٹریک کے لئے ہوتی ہے ... دونوں فلم کو دھویا یعنی ڈیولیپ کیا جاتا ہے .
(۱۹۷۰ ، جدید طبیعیات ، ۴۴۲)