عدالتی کار روائی میں پر ایسی کاراروئی داخل ہے جس کے اثنا میں شہادت لی جائے یا شہادت کا حلف ’’ لینا ‘‘ قانوناً جائز ہو ، حلفاً لیا ہو یا لیا جاسکتا ہو .
( ۱۸۹۸ ، مجموعۂ ضابطۂ فوجداری جدید ، ۸ ).
عدالتی اختیارات کے سوا باقی تمام کام بدستور قاضیوں سے متعلق تھے.
( ۱۹۳۸ ، حالات سر سیّد ، ۵۶ ).
ہر ایک ضلع میں ایک عدالتی ہے.
( ؟ ، وقائع راجپوتانہ ، ۲ : ۱۹۵ ).