عقل کوں عقل ہے تری رائے تھے
کرے کام تجھ کام فرمائے تھے
تھی صوابِ محض رائے مرتضٰی
تھی معوبہ کی رائے اندر خطا
میں اپنی رائے بتاتا ہوں اس کے حسب حال تجویز سناتا ہوں
( ۱۸۶۲ ، خط تقدیر ۵۴ )
یہاں بالعموم ہی رائے پائی جاتی ہے کہ سلطان کے لیے اس تمام امداد کی ضرورت ہے
( ۱۸۹۳ ، بست سالہ عہد حکومت ، ۲۸۱ )
لوگوں نے اس رائے کو پسند کیا.
( ۱۹۱۴ ، سیرۃ النبیؐ ، ۲ : ۱۸۳ )
رائے انسان کے رویّہ کا الفاظ میں اظہار ہے
( ۱۹۷۱ ، تعلقات عامہ ، ۴۸ )
آپ مرد شجاع ہیں ، صاحب رائے نہیں
( ۱۸۵۱ ، عجائب القصص (ترجمہ ) ، ۲ : ۶۰۰ )
کہہ دیا ہم نے جو کہنا تھا ستمگر تجھ سے
اب تری رائے پہ ہے چھوڑ کہ دشمن کو نہ چھوڑ
بعد اشتیاق ملاقات بہجت آیات واضح رائے شریف ہووے.
( ۱۸۶۶ ، مکتوبات سرسید ، ۱۷ )