ویسے ترنگ پر سار ہو جب صف تے آنگے ہو چلیا
یک بات یک وار سوں کئی لکہ عدد گِرگِر پڑے
اس نفس سوں خلاف کرنے کیوں یو چند عدد یاد رکھنا واجب ہے .
( ۱۷۴۰ ، ارشاد السالکین ، ۱۸ ).
عدد وہ چیز ہے کہ اپنے مجموعۂ حاشین کا نصف ہو .
( ۱۸۵۶ ، فوائد الصبیان ، ۱۲ ).
میر سے امیر میں الف کا ایک عدد زیادہ ہے.
( ۱۹۱۰ ، مکاتیب امیر مینائی ، ۱۴ ).
سم عدد پہلے اور معدود بعد میں ... مذ کور ہوتا ہے.
( ۱۹۸۵ ، کشاف تنقیدی اصطلاحات ، ۴۲ ).
یہ کپڑے سی کے وہ درزی جو لایا
عدد ہر ایک مالک کو خوش آیا
دُبلا پتلا کسی تانگے کا ٹٹو اور یہ چھوٹے بڑے تین عدد بیچارے کی کمر دوہری ہوئی جاتی تھی .
( ۱۹۶۰ ، ماہ نو ، کراچی ، مئی ، ۵۰ ).