مزدور بیشک ہووے گا
پورا نپاے یو اجر
(۱۶۳۵ ، تحفتہ المومنین ، ۷۹) ۔
بارگاہِ حق سے ہر طاعت کی ملتی ہے جزا
ہے بڑی سرکار حق رہتا نہیں مزدور کا
(۱۸۷۲ ، مرآۃ الغیب ، ۶۷) ۔
کہیں آپ نے اپنی شان بڑھانے کے لیے قلی مزدور کو دو آنے کی جگہ چار آنے دیدئے ۔
(۱۹۳۳ ، زندگی ، ۹۸) ۔
قلم کے مزدور بنے رہے اور جو کچھ میسر آیا اسی میں بسر کر لی ۔
(۱۹۹۴ ، نگار ، کراچی ، مئی ، ۱۸) ۔
جس طرح ٹوکری مٹی کی اوٹھالے مزدور
اے جنوں یوں ہی اوٹھالوں میں بیاباں سر پر
قید مکاں سے خانہ بدوشی میں ہوں رہا
قید مکاں سے خانہ بدوشی میں ہوں رہا
مصیبت کے مارے راج مزدور تو بیشک ٹوکریاں ڈھو ڈھو کر پاڑ پر پہونچا رہے تھے ۔
(۱۹۱۰ ، گرداب حیات ، ۵۷) ۔
گرم ہیں دنیا کی ہر دولت سے دونوں مٹھیاں
در کفِ مزدور و دہقاں ، در کفِ سرمایہ دار