جو چند روز باقی اگر ہے حیات
تو جاں کندنی تھے مُجھے دے نجات
پس اوس روز سے مدام وہ فرشتے اس قبرِ منّور پر ژولیدہ مُو اور گرد آلودہ رُو ، روتے ہیں.
(۱۷۳۲ ، کربل کتھا ، ۴۶).
عشق کیا کیا مُصیبتیں لایا
روز کو رات کر کے دِکھلایا
حیرت اندوزئ اربابِ حقیقت مت پُوچھ
جلوہ اک روز تو آئینہ نُما ہو جاتا
تخت نشینی کے پانچ روز کے اندر ہی ان ذلیل اور کمینے لوگوں نے محل میں بُت پرستی شروع کر دی.
(۱۹۸۱ ، سفر در سفر ، ۱۸۶).
یہ کہتی کیا ہی خوش تھا روز ہمدم
کہ میں رہتی تھی دِلبر ساتھ باہم
نہیں منصب و جاگیر نہیں روز وظیفہ
ہر روز ترا نام وظیفہ ہے ولی کوں