بوڈھیا نے قدح پانی کالا ... لوہو سے بھر گیا طوعہ وہ پانی ڈال اور لائی
(۱۷۳۲ ، کربل کتھا ، ۱۱۴)
جگا کر خوابِ آسایش سے بیدار آہ ہستی میں
عدم آسودگان کو لا کے ڈالا ہے تباہی میں
(۱۷۹۴ ، بیدا ر، د ، ۵۸)
ترک صید افگن نہ آیا ناوک اندازی سے باز
سہم کر قاقم نے ڈالے دشت میں کابل کے پر
(۱۸۳۸ ، شاہ نصیر ، چمنستانِ سخن ، ۶۸)
تازہ انہیں سے یاد مری بے کسی کی ہے
کُچھ پُھول تُم جو ڈال گئے تھے مزار پر
(۱۹۴۷ ، نوائے دل ، ۹۵
۲. رکھنا ، لادنا ، پہننا
بنارس کا دوپٹہ ڈال کندھے
پھرے جوڑے کو اور گاتی کو باندھے
(۱۷۷۸ ، گلزارِ ارم (مثنویاتِ حسن ، ۱ : ۲۰۴)
مانی دِکھا کے اپنا مُرقع خجل ہوا
جب اس کے سامنے تری تصویر ڈال دی
(۱۸۴۹ ، کلیاتِ ظفر ، ۲ : ۱۲۴)
خُدا نے اِن کے دِلوں پر مہر کردی ہے ، اِن کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے
(۱۹۰۴ ، مقالات، شبلی ، ۱ : ۶۰)
اُلٹا سیدھا پائجامہ ڈال کمربند باندھتا زنان خانے کی طرف بھاگا
(۱۹۲۸ ، پس پردہ ، ۷۶)
۳. قے کرنا
جی متلایا ، ڈالا اور بس ایک دو دست آئے
(۱۹۲۴ ، انشائے بشیر ، ۳۰۵)
۴. اندر کرنا ، داخل کرنا ، اُتارنا
جہاں ندی نالے میں زور کا پانی جاتا ہو اور پار جانا ہو تو بھینس کو پانی میں ڈالتے ہیں
(۱۸۶۹ ، اُردو کی پہلی کتاب ، محمد حسین آزاد ، ۲ : ۱۵)
۵. شامل کرنا ، جمع کرنا
اگر اسم جامد کو حال ڈالنا ہو تو اس میں ہ زیادہ کرکے ... اسم صفت بنا لیتے ہیں
(۱۸۸۹ ، جامع القواعد ، آزاد ، ۱۴۴)
ہر مہینے کے خرچ میں سے کچھ نہ کچھ ڈالتی رہیں تو پھر دیکھو کہ کیسی برکت ہوتی ہے
(۱۹۱۱ ، نشاطِ عمر ، ۲۱۳)
کہا کہ اس میں سے پانچ روپے مجھے دے دو اور اپنی گِرہ سے یہپانچ روپے ڈال کر پوری رقم ڈاکٹر صاحب کو کل واپس کر آنا
(۱۹۷۷ ، اقبال کی صحبت ، ۴۲۸)
۶. دنیا
کہے رب کی بُھوکی ہوں کُچھ اور ڈال
رکہیے (رکھیے) رب قدم اوس میں عِزّو جلال
(۱۷۶۹ ، آخرِ گشت (ق) ، ۱۳۲)
۷. اُنڈیلنا ، مِلانا
دیکھت اس زمیں کوں کڑاہی مثال
شطل گھیئو بھریا دھوپ کا تس پہ ڈال
(۱۶۵۸ ، گلشنِ عشق ، ۱۱۲)
دُودھ بھی اِس میں ڈال لیجئے
(۱۹۴۴ ، ناشتہ ، ۶)
گھی میں اِلائچی ڈال کر کڑکائیں
(۱۹۸۵ ، سعدیہ کا دستر خوان ، ۱۷۰)
۷. (i) لگانا (کام سے) ، مسروف کرنا ؛ بٹھانا (مکتب وغیرہ میں) ؛ کوئی کام شروع کرنا
خالہ میری مانو تو تجار میں ڈالو امین کو
(۱۹۷۴ ، آغا ناصر کے سات ڈرامے ، ۵۲)
(ii) اُلجھانا
تجہے (تجھے) ڈالا تھا اے دل گفتگو میں کام نکلے گا
ڈبویا رازداری میں ہمیں کو رازداں تُو نے
(۱۸۹۷ ، کلیاتِ راقم ، ۲۴۱)
۹. (حیوان کا) حمل گِرانا ، کسی چیز کے اندر کوئی چیز رکھنا ، جیسے : جوتے میں پانو ڈالنا
(ماخوذ ؛ نور اللغات ؛ فرہنگِ آصفیہ)
۱۰. اس عورت کے متعلق کہتے ہیں جس سے باقاعدہ نِکاح نہ ہو ویسے ہی گھر میں بہ طور بیوی رکھ لی جائے ، مدخولہ بنانا ، شادی کرنا
سلطان چاہتا تو اس کی روزِ اوّل سے ہی کنیز بنا کا ڈال لیتا
(۱۹۳۹ ، افسانۂ پدمنی ، ۱۴۱)
۱۱. لِکھنا ، درج کرنا ، شامل تحریر کرنا ، اضافہ کرنا
اُردو میں بھی سہل کاری کا خیال رہا کوئی لفظ دشوار کہ جس کا جہاں موقع ہو نہ ڈال سکا
(۱۸۵۷ ، مینا بازار اُردو ، ۱۱)
اس خط کی تاریخ صاحب کے وہاں پہنچنے ک ایک دن پہلے کی ڈالی
(۱۹۵۸ ، خون جگر ہونے تک ، ۱۷۸)
۱۲. تیّار کرنا ، مرّتب کرنا ، بناد دینا
تعلیم کا ایک ایسا دھانچہ ڈال دیتے کہ جب موقع مناسب ملتا ترقی پذیر ہوجاتا
(۱۸۵۰ ، کوائفِ تعلیم دیسی (تَتِمّہ ، ۱۸)
۱۳. (i) (ڈول وغیرہ) لٹکانا ، اندر کرنا
ایک رسی میں لنگر باندھ کے اس مین ڈالا
(۱۸۷۳ ، مطلع العجائب (ترجمہ) ، ۱۸۷)
(ii) گرانا (بلندی سے)
اپنے تئیں پہاڑ سے ایسا ہی ڈالوں کہ استخواں سے نشان نہ رہے
(۱۷۷۵ ، نوطرزِ مرصع ، تحسین ، ۲۰۶)
۱۴. پیش کرنا ، نذر کرنا
جب صدق حاضر ہوا بادشاہ نے کذ٘ کی رپورٹ اوسکو دِکھلائی اور فرمایا کہ تو کُچھ جواب دے سکتا ہے اوس نے عرض کی کہ میں سب کا جواب شافی دے سکوں گا بشرطیکہ آپ عقل کو بُلا کر اوس کے اوپر میرا اور کذب کا انصاف ڈال دیں
(۱۸۶۴ ، جوہرِ عقل ، ۶۴)
میراں نے نذر عقیدت کو
بھگون کے گلے میں ڈال دیا
(۱۹۲۷ ، مطلعِ انوار ، ۹۰)
۱۵. بچھانا ، پھیلانا ، بُنیاد رکھنا
جلد کئی دِن میں اُسے بنوایا
اور حجرات کا ڈالا پایا
(۱۷۷۲ ، ہشت بہشت ، ۴ : ۵۸)
صندل کی چوکی رکھ دی گئی ، غلایچے ڈال دیے گئے
(۱۹۶۲ ، حکایاتِ پنجاب (ترجمہ) ، ۱ : ۳۶۵)
۱۶. (بیج) چھڑکنا ، ہونا
باقی ہونا (بیج) پھر گھڑۓ میں ڈال کر طریقِ سابق نمی پہنچاتے ہیں
(۱۹۳۰ ، شفتالو ، ۲۷)
بیج کی مقدار ۔۔۔ ڈالنے سے پیداوار زیادہ ہوتی ہے
(۱۹۷۴ ، زراعت نامہ ، مئی ، ۱۲)
۱۷. پیدا کرنا
میرے یاراں کی محبت بے گماں
ڈالتا ہے اس کے دل میں بس بیاں
(۱۷۹۲ ، تحفۃ الاحباب ، باقر آگاہ ، ۴۰)
۱۸. گُسھیڑنا ، سمونا
باہر کے نوکر سارے ڈیوڑھی پر جڑے ہوئے اور آدھے آدھے دھڑ اندر ڈالے دیں ، ہر ایک مختلف سوال کرے ، جواب کون دے
اسلحۂ ناری و تلوار وغیرہ دونوں میں سنہری پُھول پتّیاں ڈالی جاتی ہیں
(۱۸۸۹ ، حسن ، ۲ ، ۷ : ۱۱)
(ii) بیل بُوٹے کاڑھنا ، باننا
جس آدمی کو ایک بیل یا ایک بُوٹی ڈالنی آتی ہے اُسے وہی آتی ہے
(۱۸۶۴ ، نصیحت کا کِرن پُھول ، ۲۱)
۲۲. فعل اِمدادی کے طور پر ترکیب میں گوناگوں معنی دیتا ہے ، جال ڈالنا ، بُنیاد ڈالنا ، طرح ڈالنا ، فرش ڈالنا ، ڈول ڈالنا ، لِکھ ڈالنا ، پڑھ ڈالنا
تمہاری بے وقوفی ہے کہ دینے اور دے ڈالنے میں فرق نہیں سمجھتے
(۱۹۳۳ ، میر ناصر علی ، مقاماتِ ناصری ، ۴۳۸)
۲۳. داخل کرنا ، منسلک کرنا ، پرونا (سوئی وغیرہ کے لئے)
کب سے سوئی میں تاگا ڈال رہی ہوں نہیں پڑتا بڑھاپا بھی کیا بری چیز ہے
(۱۹۶۸ ، مہذب اللغات ، ۵ : ۳۴۳)
پ
[ پ डालना ]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .