ہم ہیں مشتاقِ جواب اور تم ہو الفت سیں بعید
نقدِ دل گر تم کوں پہونچا ہے تو بھجوا دیو رسید
شہزادہ کی جہاں کہیں جانے کی مرضی ہو باحتیاط تمام وہاں پہنچادے ان کی رسید مجھے لا دے
(۱۸۰۳، مذہب عشق ، ۲۶)
قاصد مرے سوال کا کوئی نہیں جواب
کاغذ بدل گیا نہ ہو خط کی رسید کا
لو سنو لکھتے ہیں وہ خط میں یہ الفاظِ رسید
چل کے ہم گھر سے ترے غیر کے گھر تک پہونچے
جب یہ بخوشی رخصت کرے رسید اور صافی نامہ اس سے لیکر آویں
(۱۸۰۲، باغ و بہار،۱۷۵)
تین لاکھ روپیہ کا جواہر ... اسی وقت دے کر رسید دستخطی لے لو
(۱۸۸۲، طلسم ہو شر با، ۱ : ۸۳۴)
ان پر نظرثانی کر کے ان کے طریقوں میں اصلاح کی اور ایک بنی اسٹامپ والی رسید کا طریق اختیار کیا
(۱۹۳۷، اصول و طریق محصول ، ۱۰۴)
دیوان جی وہ جو اس روز آپ کپڑے وغیرہ دے کر اور مختارِ رعام سے رسید لے کر گئے اس کے بعد پھر نظر ہی نہیں پڑے
(۱۹۸۶، جوالا مکھ ، ۱۶۱)
وہ زندہ ہے ، توبہ ، غلط یہ اُمید
جو شک ہو تو رضواں سے مانگوں رسید
کم از کم گھر سے روانہ ہونے تک تو کسی صاحبزادے کی رسید نہیں آئی تھی
(۱۹۲۱، انور ، ۱۳۴)
دیکھ مجنوں تری آہوں کی رسید آتی ہے
پوچھتی آتی ہے لیلیٰ وہ بیاباں تیرا
بیٹی جا بیگموں کو سلام کر ، ہنس بول ، پر گُم سُم بیٹھی ہے اور رسید ہی نہیں
(۱۹۲۲ ، انار کلی ، ۱۹)