میں طفل ہوں تمہارے مکتب تھے علم بوجھیا
تو دیویں عالماں سب شاباشی منجکوں گہ گاہ
ادب سوں کھڑے ہو کیا عرض یہ
کہ ہے ایک طفل نوجواں بیگنہ
کب خوفِ جان معرکۂ عشق میں کیا
کس طفلِ تُرک سے مری آنکھیں لڑیں نہیں
بر خلاف اون کے ... مسیلمہ نے دعویٰ کیا تھا کہ میری تصدیق پر طفل گواہی دے گا.
(۱۸۷۳ ، مطلع العجائب (ترجمہ) ، ۱۲)
سنتے ہی یہ پھینک کر بارِ گراں طفلِ حسیں
دوڑ کر پہنچنا جہاں تھے گلرخانِ نازنیں
طفل کا طفل رہا مکتبِ جاں میں پھر بھی
دہر میں وقت کو استاد کیا تھا میں نے