آنکھ سوں انصاف کے دیکھ بصارت ستی
عین ہے بندہ نواز دوجے کا نئیں یاں حساب
آنکھیں جو روتے روتے جاتی رہیں بجا ہے
انصاف کر کہ کوئی دیکھے ستم کہاں تک
بے تعصبی کا وصف انہی لوگوں میں پایا جاتا ہے جن کی طبیعت میں انصاف ہوتا ہے۔
(ٖ۱۹۳۵، چند ہمعصر ، ۱۳۶)
جنے انصاف چھپایا انے دل کو بے دل کیا کام گنوایا۔
(۱۶۳۵، سب رس ، ۱۴)
وہی اگر آنکھوں پر پٹی باندھ لیں اور انصاف کو نگل جائیں تو عورتیں بے چاریاں کیا کریں۔
ٖ(ٖ۱۹۲۴، انشاے بشیر ، ۲۹۸)
کیا تم لوگ حکومت اور انصاف کو اپنے ہاتھ میں لے لوگے۔
(۱۹۲۰ ، عزیزۂ مصر ، ۲۲)
اف : چکانا ، چکنا ، کرنا۔
(۱۹۲۰ ، عزیزۂ مصر ، ۲۲)