جو کوئی دشمن جو تیرے دین کے ہیں
اولایق ’’کاف‘‘ پیش ہور ، ’’شین‘‘ کے ہیں
دوجا شین کہوے شرم لاج پت
رکھے جگ میں باورے پیو کے گھت
سین خالی ہے بڑی شین پہ ہیں نکتہ تین
صاد اور ضاد میں بس فرق ایک نکتہ ہے
عین الف شین قاف دیکھتے ہیں
یوں انھیں جستجوئے عاشق ہے
موجد ہے وہ جبتہہ الاسد کا
بھی شین کا موجد اور آقا