کرے گرب ہاتی جو اپنے منے
مرے سنگہ کوں دیکھ سپنے منے
خواب میں دیکھ تری زلف کون لہرایا ہے
آبرو کوں مگر اس رات کو سپنے میں ڈسا
کل کی رات سپنے میں دیکھا کہ کوئی مانس کہتا ہے کہ شتابی اُٹھ
(۱۸۰۲ ، باغ و بہار ، ۱۵۱)
سات سال کی ازدواجی زندگی اسے ایک سپنا محسوس ہوتی تھی
(۱۹۸۳ ، ساتواں چراغ ، ۱۰۷)
رات کے خواب ، نظر کے فریب (اوہام) بیداری کے سپنے (خیالی پلاؤ) . . . ہمارے تجربے میں ہر چیز صرف خارج سے نہیں آتی
(۱۹۵۶ ، تعارف فلسفۂ جدید ، ۱۳)