عجب نہیں جو مے نانو سُن کر دَھلے کھم
لے پیالے او پی پیالے سے پیتے مستاں
آدم نے عجب کر بولا یوں
تعظیم بتی کر نے ہیں کیوں
(۱۷۷۲ ، ہشت بہشت ، ۱۱ ).
ہر دم غمِ مژگاں سے جو ہے موت مقابل
ہر پیر و جواں کو مرے جینے کا عجب ہے
ہن٘س کے بولے پھر عجب کی کونسی یہ بات ہے
قدرتِ حق سے فلک کا گنبدِ ہے در بنا
کھولی گرہ جو غنچہ کی تُو نے تو کیا عجب
یہ دل کھلے جو تج سے تو ہو اے صبا عجب
عشق تیرا شور اُچایا آج منج من میں عجب
یعنی عاشق کو رجھانے کے ہے توں فن میں عجب
اسیر رنج و غم میں ہوں مریضِ جاں بلب میں ہوں
اور اس پر اب لک جیا ہوں میں کوئی عجب میں ہوں
بستی نظام الدین کے مانوس رستے میرے لیے عجب اور اجنبی بن جاتے ہیں .
(۱۹۸۴ ، زمیں اور فلک اور ، ۳۵).