دیکھا خان منصوبہ جب یوں گھڑہا
غرب کے دندی سوں بڑا ضد پڑہا
(۱۶۶۵ ، علی نامہ ، ۲۰۶) ۔
اس کی ضد کی اور اس کی پیدائش کی برائی کی بات منہ سے نہ نکالے ۔
(۱۷۴۶ ؟ ، قصّۂ مہر افروز و دلبر ، ۲۴۵) ۔
آپس کے نفاق اور ضد و عداوت ، ایک دوسرے کی ہدخواہی سے ہم دونوں برباد ہونے والے ہیں ۔
(۱۸۸۳ ، مکمل مجموعۂ لیکچرز و اسپیچز ، ۱۷۴) ۔
آکے وعدہ پہ مرے گھر سے وہ پھر جاتے ہیں
کیا یہ تقدیر کو ضد ہے مری تدبیر کے ساتھ
(۱۹۳۲ ، بے نظیر شاہ ، کلام بے نظیر ، ۱۵۵) ۔
۲۔ (i) ہٹ ، اصرار ، اڑ ، ہٹ دھرمی ۔
حرام ہر جاہل آدمی اپنا لغْت پکڑ کر ضد دھرتا ۔
(۱۹۳۵ ، سب رس ، ۲۲۶) ۔
اپنے مزاج میں بھی ہے ، میر ضد نہایت
پھر مر کے ہی اُنھیں کے بیٹھیں گے ہم جو اُڑ کر
(۱۸۱۰ ، مبر ، ک ، ۱۸۴) ۔
انتظامات میں بہت سی باتیں قابلِ اعتراض موجود ہیں جن کو سرسید کی خودرائی اور ضد اور ہٹ کا نتیجہ کہا جاتا تھا ۔
(۱۸۹۹ ، حیات جاوید ، ۲ : ۹۸) ۔
انہوں نے بڑے اصرار کے ساتھ مجھ سے کہا کہ وہ ضد چھوڑ دو ، اس معمولی بات پر معاملات کو بگڑنے نہ دو ۔
(۱۹۸۲ ، آتش چنار ، ۵۱۴) ۔
(ii) انانیت ، غصّہ ۔
راجہ نے بلا کر سبب پوچھا کہ آپ نے نفسانیت اور ضد چھوڑ دی تو میں نے بھی انسانیت اختیار کرلی ۔
(۱۸۸۴ ، تذکرۂ غوثیہ ، ۲۸۶) ۔
اور اسی کے ساتھ اس کی غصْیلی اور بُر ضد طبیعت کے لحاط سے کسی واجبی سی واجبی بات کو جو اس کی اپنی اکیلی مرضی کے برخلاف ہو آزادانہ اس کے سامنے پیش کرتے کی بہت کم جرأت کرتے ہوں ۔
(۱۹۱۷ ، وقارالملک ، نذ کرۂ وقار ، ۱۵۰) ۔
۳۔ وہ شے جو مذِمقابل شے کے ساتھ جمع نہ ہو سکے ، متضاد یا برعکس (چیز یا بات) ۔
دنیا اور دین ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔
(۱۸۹۹ ، رویائے صادقہ ، ۸۵) ۔
دونوں برِاعظم ... نہ صرف غیر مشابہ بلکہ ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔
(۱۹۲۴ ، جغرافیۂ عالم (ترجمہ) ، ۲ : ۲۴۶) ۔
موت کے بعد انسان کی تقدیر کے بارے میں بدھ مت کا جو تصور تھا وہ برہمی نظریرں کی عین ضد تھا ۔
(۱۹۷۲ ، روحِ اسلام (ترجمہ) ، ۱۷) ۔
۴۔ مثل ، نظیر ، جیسا ، مانند ۔
نزدیک موحداں کے بے ضد
اب میم ہے یک پنے کوں مرشد
(۱۸۰۰ ، من لگن ، ۱۲) ۔
خدائی میں بے مثل ضد ہے وہی
ولم یولد اور لم یلد ہے وہی
(۱۸۳۴ ، مثنوی ناسخ ، ۲۶) ۔
۵۔ (تصوّف) ضد شۓ میں شۓ ہے باوجود ضدبت کے جیسے آپ و آتش ہے .
ان میں باہم ضدیت ہے لیکن باطن میں ایک دوسرے کا عین ہے ، کیونکہ آپ مربوب اسمِ مُعی ہے اور آتش مربوب اسمِ قابض ہے . پس آب محی اور آتش قابض ہے اور مُحی اور قابض دونوں اسماء اللہ میں سے ہیں اور اسم اللہ جامع ہے جمیع اسماء کا اور اسم اللہ میں صفت اور تاثیر مُحی اور قابض دونوں کی موجود ہے .
(مصباح التعرف ، ۱۶۳) ۔
[ ع : (ض د د) ] ۔
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .