شہید اپر آیا تھا کی بھی جنگ
زمانہ کیا کیا شتاب و درنگ
کیا مدہوش مجھ دل کوں انیندی نین ساقی نے
عجب رکھتا ہے کیفیت زمانہ نیم خوابی کا
ایک زمانے کے بعد جو نوکر چا کر سلطان کے ہمر کاب تھے ڈھونڈتے ڈھونڈتے اوسی مقام پر جہاں سلطان پہنچا تھا پہونچے
( ۱۸۷۳ ، مطلع العجائب (ترجمہ) ، ۱۴۹ )
ایک زمانہ ہوا میں نے فوری امداد (فرست ایڈ) کی مشق کی تھی.
( ۱۹۳۶ ، منشی پریم چند ، واردات ، ۷۱ )
بند اپنا آنا جانا ہو گیا
اور اس پر اک زمانہ ہو گیا
مبارک ترا شہ یو آنا اچھو
بندا ہو تیرے گھر زمانہ اچھو
یتیماں کا پرور ہو توں اے کریم
زمانے کو ہونے نہ دینا یتیم
یہ بختاوری اسی ملک کی ہے یا سارے زمانے کا یہی حال ہے
( ۱۸۷۴ ، مجالس النسا ، ۱ : ۵ )
ترسے گا مرے ساز کے نغموں کو زمانہ
دہرائے گی دنیا مری آہوں کا فسانہ
جِب زمانہ آدھی رات کا آیا اس وقت کسی نے شہر کے اندر نے کو بجایا
( ۱۸۸۰ ، طلسمِ فصاحت ، ۲۴۰ )
آنا تو غنیمت تھا پہ جانا تھا قیامت
تھوڑا سا وہ رخصت کا زمانا تھا قیامت
اب ہم لوگوں کی جوانی کا زمانہ ہے چاہے مرد بن کے نکلیں چاہے عورت
( ۱۹۰۳ ، سرشار ، بچھڑی ہوئی دلہن ، ۷۷ )
جو کل تھی تلخ حقیقت وہ اب فسانہ ہے
یہ مہر و ماہ کی تسخیر کا زمانہ ہے