فرشتہ اُہے پن اوسے پر نہیں
بجلدی فرشتے تے کمتر نہیں
اوسکی نصرت لئے آئے چار ہزار فرشتے.
(۱۷۳۲ ، کربل کتھا ، ۴۶).
بشر کیا کہ دیکھ ایسی آفت کے تیں
فرشتہ بھی رو بیٹھے عصمت کے تیں
جانور ، آدمی ، فرشتہ ، خدا
آدمی کی ہیں سیکڑوں قسمیں
میں تو کہتی ہوں آدمی نہیں فرشتہ تھا.
(۱۹۲۰ ، گرداب حیات ، ۲۶).
آرزو ہے یار کا پیغام لائے وقتِ نزع
نامہ بر یارب فرشتہ بن کے آئے وقتِ نزع