۱. تپتا ہوا ، جلتا ہوا ، سوزاں ، جس کا درجۂ حرارت زیادہ رہتا ہو ، تپاں (سرد کی ضد).
حوض کا گرم سر پہ ڈالا آب
ہوئے اک جا پہ آب اور سیماب
( ۱۷۹۱ ، حسرت (جعفر علی) ، طوطی نامہ ، ۱۰۴ ).
کڑی دھوپ میں گرم ریت پر لٹاتا تھا.
( ۱۸۷۷ ، خیابانِ آفرینش ، ۲۳ ).
گردن پر گرم پانی اسفنج پھیرنا ... دردِ سر کو تسکین دیتا ہے.
( ۱۹۴۸ ، علم الادویہ (ترجمہ) ، ۱ : ۸۵ ).
کمرہ باہر کی نسبت کننا گرم تھا.
( ۱۹۸۸ ، نشیب ، ۳۰۶ ).
۲. (رفتار کے لیے) تیز ، تند ، طرّار.
جاتا ہے مثلِ برق یہ سرہت اڑا ہوا
کتنی سمندِ عمر کی رفتار گرم ہے
( ۱۸۲۴ ، مصحفی ، د (انتخابِ رام پور) ، ۳ ).
اب ریل کی رفتار جتنی رم ہوتی جاتی ہے اتنی ہی ہوا کے جھونکوں میں خنکی بھی پڑھتی جاتی ہے.
( ۱۹۴۲ ، غبار خاطر ، ۳۸ ).
۳. مصروف ، مشغول ، سر گرم.
جس گھڑی مکر اپنے میں وہ ہوویں گرم
باتوں میں کر ڈالیں دل پتھر کا نرم
( ۱۷۳۲ ، کربل کتھا ، ۹۴ ).
کر ملاقات ہم دموں سے تُو
گرمی بازی ہو محرموں سے
( ۱۸۱۰ ، میر ، ک ، ۹۳۴ ).
حاضرین بڑے زور شور سے گر مباحثہ تھے.
( ۱۹۰۵ ، مقالاتِ شبلی ؛ ۵ : ۱۳۲ ).
۴. مستعد ، تیّار ، آمادہ.
اے مجرئی بس ہوتے ہی بازار قضا گرم
سر دینے پہ جوں شمع تھے شہ کے رفقا گرم
( ۱۸۷۵ ، دبیر ،دفتر ماتم ، ۱۶ : ۱۷۵ ).
۵. سخت ، تند ، (مزاح اور طبیعت کے لیے) تیز.
ایک ایسے عہدہ دار کے لیے چند خصوصیات لازمی ہیں ، میٹھا ہو ، ضرورت کے۷ وقت نرم اور گرم بن سکے .
( ۱۹۲۲ ، نقشِ ، فرنگ ، ۴۲ ).
۶. خفا ، ناراض.
آپ سے جن کو گرم پاتے ہیں
واں مری آش کو پکاتے ہیں
( ۱۷۷۲ ، فغاں ، د (انتخاب) ، ۱۶۶ ).
ہم تو ٹھنڈے ہیں عبث گرم بڑے ہم سے کوئی
کیا عجب مدعی خود قہر صمد سے مل جل جائے
( ۱۸۵۸ ، کلیاتِ تراب ، ۲۰۹ ).
دوسرا گرم ہو تو تم نرم پڑ جاؤ .
( ۱۹۲۴ ، انشائے بشتر ، ۲۷۴ ).
عدو پر گرکم تھے بد قسمتی سے می بھی آ پہنچا
بخار اترے کا اب اچھی طرح ان کی حرارت کا
( ۱۹۴۲ ، سنگ و خشت ، ۱۰ ).
۷. زیادہ ، بہت زیادہ ، بے حد (بہتاب اور تپاک کے لیے).
محبّت تو لی گرم دھرتا آہے
ولے کہتے کوں شرم کرتا آہے
( ۱۶۰۹ ، قطب مشتری ، ۳۲ ).
ایک صاحب لطیفہ گو تھے گرم
اون کا مہمان اک ہوا بے شرم
( ۱۸۲۵ ، رنگین ، چہار چمن ، ۲۳۵ ).
شمع رویوں سے اتنا گرم نہ مل
ان کی جو بات ہے زبانی ہے
( ۱۸۴۴ ، خواجہ امین الدّین امین ، د ، ۲۴۱ ).
۸. شوخ ، چُلبُلا ، شرارتی ، بے باک.
عاشق اوتالا بہوت گرم معشوق کوں حایل ہوتی شرم.
( ۱۶۳۵ ، سب رس ، ۹۲ ).
گرم دم سیں دنیا میں گرمی کی رُت
دمِ سرد سیں ہوئے سردی جو اُت
( ۱۷۶۹ ، آخر گشت ، ۱۳۸ ).
بھڑ بھونجے کا طفلِ گرم دیکھا اچپل
بُھنتا ہے دل اس سے اور جی جاوے جل
( ۱۸۰۱ ، حسرت (جعفر علی) ، ک ، ۵۴ ).
تی مگر دل پذیر اک بیباک
اچپلی گرم ڈھیٹھ اور چالاک
( ۱۸۸۵ ، مثنویِ عالم ، ۲۷ ).
مُغاں شیوہ اس محبوب کو کہتے ہیں کہ جو بہت گرم اور شوخ اور شیریں حرکات اور چالاک ہو.
( ۱۹۴۹ ، آفاق حُسین ، نادرات ، ۲ : ۴ ).
۹. حِدّت پیدا کرنے والی ، گرمی پیدا کرنے والی ، حرارتِ غریزی کو بڑھانے والی (دوا وغیرہ کی خاصیت کے لیے).
جلتا ہوں تپِ ہجر سے میں اور یہ طبیب آہ
اس پر بھی مرے نسخے میں لکھتے ہیں دوا گرم
( ۱۸۰۵ ، دیوانِ بیختہ (ق) ، ۷۳ ).
علاجِ امراض میں سارا کھیل ... (گرم سرد ، خشک اور تر) کے تناست کا ہے.
( ۱۹۲۷ ، تاریخِ فلسفۂ اسلام ، ۱۱۸ ).
۱۰. بلیغ ، بلند ، پُر اثر (مضمون یا شاعری وغیرہ).
رحمت خدا کی انشا صد آفریں کہ تجھ سے
پر ایک قافیہ کیا گرم اس غزل میں بیٹھا
( ۱۸۱۸ ، انشا ، ک ، ۳ ).
اس سے زیادہ گرم ایک فقرہ اور سنیے.
( ۱۸۶۵ ، لطایف غیبی ، ۸ ).
خیالات کے لحاظ سے تو یہ غزلیں اس سے بھی زیادہ گرم ہیں.
( ۱۹۰۸ ، مکاتیبِ حالی ، ۴۲ ).
مگر اس سنگِ محک پر ہمارے شعری سرمائے کا نرم و گرم حصّہ نہ حجم میں زیادہ نکلے گا نہ معیار میں.
( ۱۹۸۸ ، آج بازار میں پابہ جولاں چلو ، ۴۳ ).
۱۱. تیز ، پُر اثر ، جوشیلا ، پُرجوش .
میرا عشق تو بہت گرم ، کدہیں تو بھی اس کا دل ہوئے گا نرم.
( ۱۶۳۵ ، سب رس ، ۲۰۰ ).
اے مجرئی اشک آتے ہیں ہنگامِ بکا گرم
ٹھنڈی ہے تری آہ پہ تاثیر ہے کیا گرم
( ۱۸۷۵ ، دبیر ماتم ، ۱۶ : ۱۵۷ ).
یہ بیان بھی ایسا ہوا کہ کسبیوں کی ہپچکیاں بندھ گئیں.
( ۱۹۲۸ ، حیاتِ طیّبہ ، ۸۲ ).
باتیں جن کی گرم بہت ہیں ، کام اُنہی کے خام بہت
کافی کے ہر گھونٹ پہ دوہا ، کہتے میں آرام بہت
( ۱۹۷۹ ، ابنِ انشا ، دلِ وحشی ، ۱۰۸ ).
۱۲. غضبناک ، غصّہ سے بھرا ہوا.
ہرمز جب گل کا نام سنا ، بہت خقّا ہوا اور دائی کی طرف گرم آنکھ سے تاکا.
( ۱۸۰۰ ، قصّۂ گُل و ہرمز (ق) ، ۳۰ الف ).
۱۳. سخت ، ناگوار ، تلخ .
سنجیدہ کا لہجہ نرم تھا یا کرم ، مگر مضمون تھا معقول.
( ۱۹۰۸ ، صبحِ زندگی ، ۱۵۲ ).
۱۴. اختلاط رکھنے والا ، گُھلنے ملنے والا.
مِلنے میں کتنے گرم ہیں یہ ہائے دیکھنا
کشتہ ہوں میں تو شعلہ اُخوں کے تپاک کا
( ۱۹۲۴ ، مصحفی ، د (ق) ، ۲۳ ).
۱۵. خوب ، کھگرا ، چوکھا.
گر کہیے بغل کیجئے ہماری بھی ذرا گرم
تو آنکھ جھپک ناز سے کہتا ہے وہ کیا گرم
( ۱۸۰۹ ، جرأت ، ک ، ۱ : ۴۲۰ ).
۱۶. صفراوی ، پت کا .
( ماخوذ : فرہنگِ آصفیہ ؛ عملی اردو لغت ).
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .