گھٹا دیک بوسچہ گھنا ابد آئے
ایسے بھی سو بونداں کے رقاص لیائے
مقام پاکیزہ تھا ، مکانات اس میں سہاونے اور درخت گھنے تھے
( ۱۸۰۱ ، باغ اردو ، ۱۲ ) .
چارچار پانچ پانچ انگل گھنے گھونگر والے سیاہ بال .
( ۱۸۹۱ ، ایامیٰ ، ۳ ) .
ملک میں پہاڑوں پر گھنے جنگل چھائے ہوئے ہیں .
( ۱۹۲۴ ، جغرافیۂ عالم (ترجمہ) ، ۲ : ۲۴۲ ) .
گھنے پیڑ تھے دونوں جانب سڑک کے
وہ لوٹ آئے کو تھی کہ اک اوٹ میں سے
منگا بھیج دے عود و عنبر گھنا
منگا بھیج دے مشک و اذفر گھنا
پن او اوچ بلند پر سمج تے
مچھر تے نھنا گھنا ہے گج تے
سانچ بتاؤ مجھے باج کا کے بھاؤ ہے
ایک کھریدار کو اس کا گھنا چاؤ ہے
میں تو گھنے دن سے تیری باٹ دیکھ رہی تھی .
( ۱۸۶۸ ، رسوم ہند ، ۷۵ ) .