او بازار جوبیس جنساں کاں تھا ، یعنی بازارِ اول گوشت
(۱۴۲۱، بندہ نواز ، شکار نامہ (شہباز فروری ، ۶۲))
چرندے بی صحرا میں کرتے گون
سو پک گوشت ہوتے تھے یخنی نمن
پانچہ گن ماٹی کے باڑ گوشت رگاں ، چمڑا ، بال
(۱۷۴۰، ارشاد السالکین ، ۲)
اس طرح مسلمانوں کا خون اور گوشت اور پوست ہندوستان ہی کی پیداوار ہے
(۱۸۶۷، مکلمل مجموعۂ لکچرز و اسپیچز ، سرسید ، ۴۰)
بجائے غذا کے ہمارے سانس کے ساتھ ہمارا گوشت اور خون جلے گا
(۱۹۳۲، مشرقی مغبی کھانے ، ۶۰)
کوئی اپنے گو شت میں گہرے گہرے زخم ڈال لیتا ہے
(۱۹۹۰، بھولی بسری کہانیاں ۲ : ۱۳۲)
اسی سے جو وہ گوشت لیتے تھے آ
قصائی ہوا تھا بہت آشنا
گوشت ترکاری کے ساتھ رانڈ کے پتے منگوانے فرض تھے
(۱۹۲۵، گرداب حیات ، ۵۴)
ہفتہ مین تین چار روز گوشت بھنا کرتا تھا
(۱۹۸۷، ابوالفضل صدیقی ، ترنگ ، ۳۶۲)
ماش کی دال کا نہ کریے گلا
گوشت یاں ہے کبھو کسو کو ملا
پھر لنچ کے روح رواں یعنی گوشت کی باری آتی ہے
(۱۹۳۲، مشرقی مغربی کھانے ، ۷۸)