تمن پرت کِری پیچاں پڑے ہیں اب دل میں
ملائکانِ مُقَرَّب سندر بہشتی حور
تُجھ گر کی طرف سندر آتا ہے ولی دایم
مُشتاق درس کا ہے ٹُک درس دِکھاتی جا
یہ دیوان کا پُوت سب میں سُندر تھا.
(۱۸۰۲ ، باغ و بہار ، ۱۵۱)
سُندر نازنین جب نِکلتی بہار
عشق باز اوپر سے کرتے نظار
ہندوستان میں انگریزی سرکار کا بھی حکم نہیں کہ یہ موہنی سندر میرے پاس رہے.
(۱۹۱۳ ، انتخابِ توحید ، ۷۵)
وہ ... اوپر سے سندر نیچے سے بیکار.
(۱۹۸۷ ، حصار ، ۲۲)