نقصان ہائے عظیم ان ٹھیکو سے واقع ہوئے چنانچہ لاگت اور خرچ صاحبان کمپنی کا ۳۰۲۰۷۰ روپے تھے .
(۱۸۴۵ ، مزید الاموال ، ۸۰).
لاگت کا حساب بذریعۂ تحریر مطبع سے دریافت ہو سکتا ہے .
(۱۸۷۳ ، اخبار مفید عام ، یکم مئی ، ۴).
کُل لاگت کا تخمینہ ۲۲۴ ملین روپیہ ہے .
(۱۹۸۳ ، معاشی جغرافیۂ پاکستان ، ۳۴).
پچاس جلدیں جو وہ آپ سے طلب کریں وہ اصل لاگت پر آپ ان کو دے دیں.
(۱۹۰۶ ، متایبِ حالی ، ۶۹).
روپئے بیس آنے کی روز کی بکری ہو جاتی تھی اس میں لاگت نکال کر آٹھ دس آنے بچ جاتے تھے .
(۱۹۳۶ ، پریم چند ، واردات ، ۲۴).