یو خدا کی عنایت یاں کیا شکایت، خدا بھوت بڑا بے نہایت
(۱۶۳۵، سب رس، ۱۵)
ہر درد پہ کر صبر ولی عشق کی رہ میں
عاشق کو نہ لازم ہے کرے دکھ کی شکایت
ہر طرف بحث تجھ سے ہے اے عشق
شکر تیرا تری شکایت ہے
اِدھر رہ گئی یا اُدھر رہ گئی
وفا کی شکایت مگر رہ گئی
کہنے لگی ماں مجھے ظفر سے کوئی شکایت نہیں
(۱۹۸۸، نشیب ، ۲۸۵)
اس روز میں نے اپنا سر پیٹ لیا شوہر کے خلاف کوئی شکایت سننے کو تیّار نہیں
(۱۹۸۸، نشیب ، ۲۸۶)
جب تک میں اپنا حال تم کو لکھ کر نہ بھیجوں اور تم کوئی دوا تجویز کرکے مجھے لکھو ... ایک دو نئی شکایتیں پیدا ہو جائیں.
(۱۸۹۲، مکاتیب امیر مینائی، ۱۱۲)
دو سال گزرے تھے کہ دردِزانو کی شکایت پیدا ہوئی
(۱۹۰۳، مضامین چکبست، ۲۰)
دل بڑھنے کی شکایت پر مجھے . . . ہسپتال میں ایک عام بیمار کی حیثیت سے داخل کر دیا گیا.
(۱۹۸۲، آتشِ چنار ، ۱۲)