گنگا رنگ چاندی منے کے رلے
ندی تند ہو کر دریا پر چلے
ادھر تو گنگا اُدھر جمنا بیچ تربینی
عجب طرح کا ہے تیرتھ پراگ پانی پر
اے آب رود گنگا وہ دن ہیں یاد تجھ کو
اُترا ترے کنارے جب کارواں ہمارا
ماں کو بیٹی کے” پھول“ گنگا میں بہانے کے لئے بنارس جانے والی گاڑی میں سوار کرا دیا.
(۱۹۸۷ ، شہاب نامہ ، ۱۳۷) .