عاشق کوں عشق معشوق کوں حُسن دیا.
(۱۶۳۵ ، سب رس ، ۲).
عاشق ہوں میں رکھیں گے سب لوگ نام تجھ رے
یوں ناز سیس لٹک کر مت کر سلام مجھ رے
کوئی عاشق نظر نہیں آتا
ٹوپی والوں نے قتلِ عام کیا
عاشق ہوں ، پہ معشوق فریبی ہے مرا کام
مجنوں کو بُرا کہتی ہے لیلیٰ مرے آگے
غم میں ڈوب کر موزوں طبیعت والے نامراد عاشق نے .... شاہلکار تصنیف کیا.
(۱۹۸۸ ، قومی زبان ، کراچی ، جولائی ، ۱۱).
جب تک بہار رہتی ہے رہتا ہے مست تو
عاشق ہیں میر ہم تو تری عقل و ہوش کے
کل شے محیط ہے اسے کون پچھانے
جو کوئی عاشق اس پیو کے اسے جیو میں جانے
مُخْدوم سیّد مُحمّد حُسِینی گِیسُو دَرَاز
عَاشِق شَہبَاز سَرفَرَاز
معشوق کا نا ہوئے خیال
عاشق کیرا کچھ نا ہیں مجال
جو شخص گُم کردہ قلب نہ ہو عاشق نہ ہو گا اس لئے کہ جو شخص دل سے خبر رکھے گا یا دل رکھے وہ عاشق نہیں.
(۱۹۲۱ ، مصباح التعرف ، ۱۷۷).