ترے در پہ بیٹھا ہے گھٹنوں کو پکڑے
یہی مصحفی کو بہانا ہوا ہے
میری ہی تو آنکھوں میں غضب نیند بھری ہے
میری ہی جبیں ہے یہ جو گھٹنے پہ دھری ہے
اس کی سوکھی ٹانگوں کے گھٹنے ان کے کانوں سے اوپر نکل گئے تھے.
(۱۹۲۸، مضامین فرحت ، ۱ : ۱۰۹).
وہ ایک کپڑا پہنتے ہیں جو کمر سے گھٹنوں کے نیچے تک لٹکتا رہتا ہے.
(۱۹۵۱، تاریخ تمّدن ہند ، ۱۵۸).