ملعون سنگدل وہ معجزے دیکھ دیکھ ڈرتے ، لیکن اپنی شرارت سے باز نہ آتے تھے .
(۱۷۳۲ ، کربل کتھا ، ۲۴۳)
بتوں کی ذات سے کیا کیا شرارتیں پائیں
کہ پانی پانی یہ سنگیں عمارتیں پائیں
اہل کاروں کی شرارت سے ... مظلوموں کی رسائی بادشاہ تک نہ ہوتی تھی .
(۱۸۹۷ ، تاریخِ ہندوستان ، ۶: ۱۳)
آرمینا والوں نے بغاوت اور شرارت کی .
(۱۸۹۸ ، سرسید ، مضامین ، ۳۴)
زلف میں حلقے بنائے ہیں شرارت دیکھنا
طوق پہنائے ہیں کیا اس شوخ نے زنجیر کو
بے کار بیٹھے بیٹھے وہ اکتا جاتا تو شرارت کی سوجھتی .
(۱۹۳۶ ، خطبات عبدالحق ، ۶۵)
یہ شرارت ترے گیسو کی ہے میں جانتا ہوں
آ نہ سکتی تھیں بلائیں مرے گھر آپ سے آپ