پڑے دنبال میں میرے سو اس نیناں کے دنبالے
خدایا عشق مشکل ہے بھرم رکھ تو معافی کا
دل باندھتے نہیں ہیں ہمارے ملاپ پر
مھ طلعتاں مین مجھ کو تو اب کچھ بھرم نہیں
ان کپڑوں سے ذرا بھرم ہے ، کپڑے اتارنے سے وہ بھی جاتا رہے گا .
( ۱۸۹۲ ، خدائی فوجدار ، ۱ : ۱۷۴ )
مہا بھارت اسی جنگ کا نام ہے جس کے بعد ھندوستانی بھرم نابود ہوگیا .
( ۱۹۱۷ ، کرشن بیتی ، ۱۲۸ )
دہن اوس کو نہیں بے جا بھرم ہے
غلط کہتے ہیں مردم و عدم ہے
نکالا ہے تلاشی سے فقط ایک درم داغ
یاروں کو مرے دل پہ ہزاروں کا بھرم تھا
پھر کچھ دیا ہے دھوکا پھر چکما کچھ چلا ہے
پھر کچھ بھرم وفا کے اس بد گمان پر ہیں