ہوئے تین دن ، تھا جو میں تاب میں
نہیں دیکھیا یک لحظہ کچھ خواب میں
لحظہ یک گزرا و لیکن لچھ اثر
نیں دسیا کشتی کا پانی کا اوپر
انسان کو چاہیے کہ ایک لحظہ معانی بلند کی فکر سے غافل نہ رہے.
(۱۸۴۵ ، مطلع العلوم (ترجمہ) ، ۳۹ ).
جسمِ انسانی تو ہر لحظہ اور ہر آن بکھر رہا ہے.
(۱۹۲۳، سیرۃ البنیؐ ، ۳ : ۳۹۰)
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان
گفتار میں کردار میں اللہ کی بُرہان
زندگی ہر پحظہ نیا طُور نئی برقل تجلّی ہے.
(۱۹۹۰، قومی زبان ، کراچی ، مئی ، ۵۱)