مصنّف کے فقرے فقرے اور لفظ لفظ سے اس کے حالات ، خیالات ، ذکاوت اور طبیْعت کا پتہ لگتا ہے.
(۱۹۱۰ ، مکاتیب امیر مینائی (دیباچہ) ، ۱۰ ).
میں نے اس کا فقرہ مکمل کر دیا.
(۱۹۸۸ ، نشیب ، ۶۰ )
لن ترانی کو سمجھتا ہوں میں فقرہ اوس کا
پردۂ لفظ میں معنی کبھی روپوش نہیں
نامہ بر اُن کا تو وعدہ اور تیرا اعتبار
مکر ہے فقرہ ہے عیّاری ہے دم ہے چال ہے
فقرہ پُشت کی ہڈّی کو اور تصنیف نوع نوع گرفتن اور جمع کو کتہے ہیں.
(۱۹۲۳ ، سرگزتشت الفاظ ، ۷۴ ).
ان حیوانوں کی ریڑھ کی ہڈّی جو پیٹھ میں ہوتی ہے بہت سی چھوٹی چھوٹی ہڈّیوں سے مل کر بنتی ہے اسی طرح ان میں سے ہر چھوٹی ہڈّی کو فقرہ کتہے ہیں.
(۱۹۴۰ ، حیوانیات ، ۲۴ ).