جو اوس دیو کوں بند سوں آزاد کر
چڑاتے مجھے اوس کی گردن اوپر
دو ہاتھ گردن سیں دینی جکڑ
رکھے ٹخنوں گھٹنوں تلک جکڑ کر
نانا کے ساتھ پیار میں دونوں کا ساتھ تھا
گردن میں ایک ان کا اور اک اُن کا ہاتھ تھا
کان کی لووں کے نیچے اور گردن پر میل کی پرانی تہوں پر نئی تہیں چڑھتی رہتیں .
(۱۹۸۷ ، ابوالفضل صدیقی ، ترنگ ، ۱۷۹)
آدمی میں برا فعل نا اچھنا ، صراحی کی گردن پر گنہ کا بھار نہ دھرنا .
(۱۶۳۵ ، سب رس ، ۳۰)
جب رکاوٹ ہوئی آپس میں تو ہم رندوں نے
دستِ ساقی طرفِ گردنِ مینا کھینچا
گردنِ شیشہ جو ساغر پہ جُھکی اے ساقی
کالی متوالی گھٹا جھوم اٹھی اے ساقی
نل کی چوٹی بند ہوتی ہے اور فشارہ اس چوٹی کی ایک تنگ گردن میں سے پھرتا ہے .
(۱۹۲۱ ، سکون سیالات ، ۲۶۱)
رحم کے چار جائے ہیں یعنی ایک پیندا دوسرے بدن ، تیسرے گردن ، چوتھے منہ .
(۱۸۴۸ ، اُصولِ فن قبالت (ترجمہ) ، ۲۳)
پودے کے راسی حصہ کو کھرچنے پر کئی اولین بیضے جدا ہوجائیں گے ، ایک کا انتخاب کرو اور اس میں دیکھو : (۱) گردن (ب) بطنی حصّہ .
(۱۹۳۸ ، عملی نباتیات ، ۱۳۴) .
[ ف ] .
