ہما جم رہیا تجھ چھتہ چھانوں تل
سو جیوں چھانوں جم شمع کے پان٘وں تل
شمع تم مجلس میں قصّا آپ زبان سو بولیا
رشک آتا ہے منجے کیوں بولتا ہے تو حدیث
تجھے شمع کے برابر سو کہہ سکوں کیوں میں
کہ نخل موم جدا سر و سر بلند جدا
انصاف کی چھوٹے دمِ انشا نہ رعایت
پروا نہ کروں میں قلمِ شمع سے تحریر
بعد مسافت رات اندھیری شمع نہ مشعل میں تنہا
ضعف سے کرنا ، سانس کا چڑھنا ، شدتِ وحشت پائے ستم
شمع ، طرح ، صبح وغیرہ کہ عربی میں ان کا درمیانی حرف ساکن اور آخری متحرک ہوتا ہے اور اُردو کا لہجہ اس کو قبول نہیں کرتا
(۱۹۸۹ ، اُردو نامہ ، لاہور ، جون ، ۲۳)