شکل ہم سے ناتواں کی کب مصور سے کھنچے
خاکِ مجنوں کی نہ جب تک گردۂ تصویر ہو
اے مصور سوزِ غم کی بھی رعایت چاہیے
خاکِ گلشن سے بنا گردہ مری تصویر کا
پسِ فنا بھی خموشی دکھائے گی تاثیر
رہے گی خاک مری صرفِ گردۂ تصویر
جب مصور نے لکھا گردہ تری تصویر کا
لالہ و گل کرکے حل صرف اس میں رنگ و بو کیا
گر تو نہیں ہے پر تری مثال ہو تو ہو
ہے مہ کو اپنے گردۂ تصویر پر گھمنڈ
میں ان کے حوصلوں کو انکی بہادری کو گردے کی مانند اڑا دوں گی .
(۱۹۲۳ ، قوم پرست ، ۱۲۰)
ایک موروثی توپ چو دھریان ہلدورکی جس کا نام کڑہ خاں تھا مع تین جذائلوں اور دو گردوں کے نواب کی فوج نے چھین لیے .
(۱۸۵۸ ، مقالاتِ سرسید ، ۲ : ۴۰۵) .