اوسے خاک خون سوں برابر کیا
قباحت توں اوس سوں سراسر کیا
ولے جن قباحت کوں نافام ہے
اسے ایسی باتاں سوں کیا کام ہے
دمِ تسلیم سوں باہر نکلنا سو قباحت ہے
نہ دھر اُس دائرے سوں ایک دم باہر چرن ہرگز
ممتحن اس قباحت پر نظر کر کے پہلے سے کورس مقرر کر دیتے ہیں.
(۱۸۹۱ ، ایامیٰ ، ۸۶).
معاشرے اور فرد کے مسائل کا ہم معنی ہونے میں کیا قباحت محسوس کی جاسکتی ہے.
(۱۹۸۳ ، حصار ، ۱۱).
شیخ جی تم نے نہ سمجھا یہ کرامات راہ
کیا قباحت ہے نکلنے میں خرابات کی راہ
اس طور سمجھنے میں کچھ قباحت بھی نہیں ہے.
(۱۸۳۷ ، ستہ شمسیہ ، ۲ : ۱۱۹).
جب آپ خود ساتھ تھیں تو کیا قباحت تھیں.
(۱۹۰۸، صبح زندگی ، ۹۲).
وہ ادب کا ایک حصّہ اور ادب کی ایک صنف ہے جس کے چھپنے میں اب کیا قباحت رہ جاتی ہے.
(۱۹۷۹ ، کیسے کیسے لوگ ، ۱۰).