زور چترا ہے مرے دل کا کبوتر حاتم
سُرت کرتا ہے جب اُڑتا ہے اسی کے کُو کا
خبر بھی آؤنے سے رہ گئی ہے
کبوتر اڑ گئے پیتم کی کو کے
لہو سے پیرہن تر دیکھ کر یاروں نے فرمایا
نسیم آیا ہے کوئے یار سے کیا سرخرو ہو کر
ہنگام صبوح ہے خروش اے ساقی
ہے بادہ و کوئے مے فروش اے ساقی