بازاں چوتھی ریت رسم
کرتے رہے اندوہ غم
اللہ رضا سوں جگ میں سوتے ہیں یوں اننداں
غم کا نشاں کہیں کوئی جیتا ڈھونڈیا نہ پایا
جتے بصیر و برغم جو بجنے لگے
سوا لاک پربت گر جنے لگے
مرا غم میں روتا اٹحے زار زار
مرا جو لڑائی کرے مار مار
ایسا ہی ہجوم غم ہے تو تم سے مرے
گھبرا گھبرا کے جی چلا جاوے گا
غمگین دل کا غم اور شاداں دل کی شادی اُسی سے ہے .
(۱۹۴۵ ، الف لیلہ و لیلہ ، ۶ : ۱۶۱ ) .
عمل اور ایجاد کے شوق کی والہانہ تکمیل میں جو تکلیفیں اٹھانی پڑتی ہیں..
وہ غم نہیں مضرابِ زندگی ہیں
نیل کپڑے پینیں ہیں پیغمبراں اس غم ستیں
دشمنی پکڑے یزیداں مال و ہور خاتم ستیں
درد کا حال کطھ نہ پوچھو تم
وہی رونا ہے نت وہی غم ہے
ہیں کس کے غم میں نالۂ درد اشنائے رعد
ہے کس کے غم میں گریۂ بے انتہاے ابر
اس کے جانے سے ہے ہر چمن محوِ غم
ماند پڑنے لھی شہر کی دلکشی !
اگر سر کُھلا ہے تو کچھ غم نہیں
جو کرتی ہے میلی تو محرم نہیں
بہت سہی غمِ گیتی ، شراب کم کیا ہے ؟
غلامِ ساقی کو ثر ہوں ، مجھ کو غم کیا ہے ؟
کوئی زباں بھی سیکھیں غم اس کا کچھ نہیں ہے
غم ہے یہی جو چھوڑیں مذہب کی پاسداری
گل ہا تھوں پر دیے ترے چھلّوں کی یاد میں
دل پر تمھاری چوڑیوں کے غم میں کھائے داغ
[ ع ] .
