۱. دستکاری ، صنعت ، کاریگری ، صلاحیت جو فطری نہ ہو بلکہ تجربہ ، محنت اور مشق شسے پیدا ہوا ہو .
صنعت اور فن و حرفہ کو پھیلانا و ترقا دینا ، قومی تہذیب کے لیے ایک بہت بڑا جزو ہے .
(۱۸۷۶ ، تہذیب الاخلاق ، ۲ : ۵۱).
اس کا اثر کاریگری ، صنّاعی ... فنِ تعمیر اور تفریحات پر کیا پڑ رہا ہے .
(۱۹۴۴ ، آدمی اور مشین ، ۲۷).
۲. خوبی ، قابلیت ، استعداد .
یتابل ہے اس عدل کے فن منے
کہ بجلیاں کھڑیاں کا پتیاں کھن منے
(۱۶۰۹ ، قطب مشتری ، ۲۰).
وہ اس فن میں کشور ناہید کو داد دینے پر تلا نظر آتا ہے .
(۱۹۸۴ ، زمیں اور فلک اور ، ۳۶).
۳. ہنر ، لیاقت ، صلاحیت .
دہاں مدح میں شہ کے کھولوں اتال
زباں سوں رتن فن کے رولوں اتال
(۱۶۵۷ ، گلشن عشق ، ۲۱).
یہ فن کسے نہیں آتا کہ دل میں راہ کرے
فغاں میں اس کے تصدق ہوں جو تباہ کرے
(۱۷۷۲ ، فغاں ، د (انتخاب ، ۱۴۶).
دوسری قسم کی مجلس میں صرف فنِ خطابت کی تکمیل کی نمائش ہوتی ہے .
(۱۹۲۴ ، مذاکرات نیا ز، ۱۰۶).
اسی چکر کو توڑنا فن ہے اس نے بات ختم کی .
(۱۹۸۸ ، نشیب ، ۱۳۸).
۴. مشغلہ ، کاروبار ، پیشہ .
عارفاں پر ہمیشہ روشن ہے
کہ فنِ عاشقی عجب فن ہے
(۱۷۰۷ ، ولی ، ک، ۲۴۱).
ہوس سے ہم کیا تھا عشق اول
وو ہی آخر کو ٹھہرا فن ہمارا
(۱۷۹۵ ، قائم ، د، ۲۵).
کیا تھا ریختہ پردہ سخن کا
سو ٹھہرا ہے یہی اب فن ہمارا
(۱۸۱۰ ، میر ، ک ، ۱۳۳).
استاد احمد و حامد معماروں نے جو اپنے فن میں یکتائے روزگار تھے ، ایک تازہ طرح کی عمارت کا نقشہ بادشاہ کے روبرو رکھا .
(۱۸۹۷ ، تاریخ ہندوستان ، ۷ : ۴۰۰).
آج کل اس فن میں ہے سب سے زیادہ دستِ غیب
کھل گئی قسمت جہاں انسان لیڈر ہوگیا
(۱۹۴۲ ، سنگ و خشت ، ۱۴).
ان علاقوں کے لوگوں کے جذبات ، عقائد ، مسلک ، فن ، تعمیر ... وفاداریاں باقی ملک کے لوگوں سے مختلف تھیں .
(۱۹۸۴ ، مقاصد و مسائل پاکستان ، ۱۵).
۵. شمشیر بازی کے دان٘و .
جب تلوار بازی کا فن تمام ہوا تب کمر بند دونوں کے دونوں نے پکڑ کے زور کرنے لگے .
(۱۸۰۰ ؟ ، قصۂ گل و ہرمز (ق) ، ۷۸).
۶. (i) مکر ، حیلہ ، فریب .
دل کوں کچھ تدبیر کر ، تسخیر کر ، کچھ فن کر ... جیوں تیوں مجھ لگ لیاؤ .
(۱۶۳۵ ، سب رس ، ۱۵۹).
غرض اس دن تو مل کر مرد اور زن
لے آئے گھر اُسے باحیلہ و فن
(۱۷۸۰ ، سودا ، ک ، ۲ : ۷۵).
الغرض وہ زنِ پُر فن بھی فن کرتی رہی .
(۱۸۱۴ ، نورتن ، ۷۵).
اس دہریے کو شعبہ بازی غضب ہے یاد
حیلہ نیا ہے ، مکر نیا ، روز فن نیا
(۱۸۷۵ ، شہید (احمد علی) ، د ، ۱۸).
مہاراج ایسی بات منہ سے نہ نکالیے یہ آشرم میں پلی بڑھی ہے فن فریب کیا جانے .
(۱۹۳۸ ، شکنتلا (اختر حسین رائے پوری) ، ۱۲۹).
(ii) چال ، ترکیب ، تدبیر .
کیا باپ ہر چند کئی لاک فن
نہ ٹھاریا تل یک ٹھار ہو من پون
(۱۶۵۷ ، گلشن عشق ، ۱۱۷).
فرشتہ ہو تو کرکے فن یہاں سے
زمیں پر لا اتاروں آسماں سے
(۱۷۹۷ ، یوسف زلیخا ، فگار ، ۱۱).
وہ کپڑے گو پھٹے تھے ہم پر اپنے فن میں تھے پورے
لگا رکھتے تھے ایسے وقت پر بَچّا گلہری کا
(۱۸۳۰ ، نظیر ، ک ، ۲ : ۸۸).
۷. علم و ہنرکا وہ شعبہ جس کی تکمیل میں قوائے متخیلہ اور قوائے دماغی سے کام لیا جائے .
کرامت مرے فن میں رکھ یوں نہاں
کہ سنتے بچن ہوئے تماشا عیاں
(۱۶۶۵ ، علی نامہ ، ۱۰).
حکمتِ عشق بوعلی سوں نہ پوچھ
نیں وہ قانون شناس اس فن کا
(۱۷۰۷ ، ولی ، ک ، ۲۴).
فقط قضیہ یہی ہے فنِ طبیعی اور الٰہی میں
جو علمِ معرفت چاہے تو یادِ الٰہی میں
(۱۷۹۴ ، بیدار ، د ، ۵۸).
ہر شخص جو علم کی کسی شاخ میں یا شاخوں میں اس زمانے کے موافق اعلیٰ درجے کی تعلیم پانا اور اس فن کا ماسٹر ہونا چاہے تو ہوسکتا تھا .
(۱۸۹۸ ، سرسید ، مضامین ، ۱۳۸).
ہوئی امید کہ اب قیدِ فن سے اٹھتی ہے
اک آگ سی میرے تن بدن سے اٹھتی ہے
(۱۹۷۲ ، لاحاصل ، ۱۰۹).
[ ع : (ف ن ن) ].
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .