وہاں سے دسرا ملکوت کی منزل سوں سیر کر کر ممکن ممکن کے شہر میں جا کر پوچھے.
(۱۴۲۱، بندہ نواز، معراج العاشقین، ۲۳) .
بہر شہر و کشور تے غازی چلے
چُغَتَے مغل ترک و تازی چلے
ایک شہر تھا اس شہر کا ناؤں سیستاں.
(۱۶۳۵، سب رس ، ۱۶) .
جنوں کے شہر میں نہیں کم عیار کوں حرمت
میں نقدِ قلب کوں کانٹے میں دل کے تول چکا
(۱۷۳۹، کلیات سراج ، ۱۵۰) .
مصنف نے ہر شہر اور جزیرے کے طول اور عرض کی وسعت بحساب درجے اور دقیقے کے بیان کی ہے.
(۱۸۷۳، مطلع العجائب (ترجمہ) ، ۱۰۷) .
نپولین اس خبر سے چونک پڑا کہ شہر میں بغاوت ہوگئی.
(۱۹۰۷، نپولین اعظم، ۲ : ۶۳) .
جہاں اتنے بڑے بڑے شہر کے معزز مہمان آتے ہوں وہاں یہ چیخ و پکار کی آوازیں سن کر لوگ کیا کہیں گے.
(۱۹۸۷، روز کا قصہ، ۱۶۶) .