کھاتا تو سر کچہری کھاتا ہے اور بہی بھی بہی کے شبہ میں نِگل جاتا ہے.
(۱۸۶۱ ، فسانۂ عبرت ، ۵۵)
پانچ متصدّی بھی کھاتہ کھولے بیٹھے ہیں لیکھا ڈیوڑھا لگا رہے ہیں .
(۱۸۸۲ ، طلسم ہوشربا ، ۱ : ۸۳۴)
وہ بیج اور اُدھار کے کھاتے میں چڑھا لیجیے ... قرضہ کی مد میں روپیہ وصول ہوا بس .
(۱۹۳۶ ، پریم چند ، پریم بتّیسی ، ۱ : ۸۹)
دیکھیے خود سیٹھ جی آ گئے ، کس ادا سے کھاتا بغل میں دبائے تون٘د سہلاتے دُکان کی طرف چلے ہیں .
(۱۹۴۵ ، موت سے پہلے ، ۴۳)
اس پر بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس کھاتے میں ایک بڑی مد ہے.
(۱۹۳۷ ، فلسفۂ نتائجیت (ترجمہ) ، ۹۵)
یہ اے نوح کس نے تمہیں رائے دی تھی کہ طوفاں اُٹھاؤ زمین دار ہو کر اب اچھا تماشا نظر آ رہا ہے تہ آب کھاتا سرِآب کھیوٹ.
(۱۹۳۱ ، اعجازِ نوح ، ۶۵)
پہلے شمس العارفین کی دوکان پر ٹھہرے یہاں بھی اُن کا حساب کتاب تھا ، وہاں کا کھاتہ دیکھا ، جو کچھ لینا دینا تھا لیا دیا.
(۱۹۲۸ ، مضامین فرحت ، ۱ : ۲۰)
ان میں معاہدے ... فہرستیں ، حساب کتاب کے کھاتے ... اور دوسری قانونی و انتظامی تحریریں شامل ہیں.
(۱۹۸۶ ، دنیا کا قدیم ترین ادب ، ۱ : ۶۸)