بچھائے نہیں او بیگانہ ز خویش
نہ معلوم ہوئے گرگ یا ہے اومیش
نہ غافل رہ زمانے سے بسر لے جا بہ ہشیاری
کہ خوابِ پاسباں ہے گرگ کے طالع کی بیداری
کج کوہی ، پاڑا ، گرگ ، چرغ ، گرگٹ ، چلپاسہ ، موش دگر
کیا جل مانس کیا بن مانس کیا ہاتھی کیا گھوڑا بیل شتر
زہر کا ”ازدہوں ، میں تھا ماتم
”گرگ“ کھاتے تھے بُز بچوں کی قسم
کانپتے تھے جس کے تیور دیکھ کر گرگ و پلنگ
موش کے بل میں دبکتا ہے بلَیّا دیکھ کر
گرگ مرگا بگھمبری اور چل
بے گماں رنگ ہیں یہ سب اے دل
رنگ کبوتروں کے یہ ہیں ... گرگ ... پیازی ، یاہو وغیرہ .
(۱۸۷۲ ، رسالہ سالوتر ، ۲ : ۵۱) .