۱. ایک ریگستانی تناور درخت کا نام جس کا تنا لمبا، سیدھا قدرے خمیدہ ہوتاہے، چوٹی پر چھتری ہوتی ہے جس میں شاخیس لگی ہوتی ہیں ، کچھ کا رخ اوپر کو اور کچھ کا نیچے کی طرف ہوتا ہے، انہی کے نیچے اس کا پھل لگتا ہے جو نہایت میٹھا ہوتا ہے ، اس کی بڑی قِسم کوسُکھا کر چھوارے بناتے ہیں ، اس سے شکر اور شراب بھی بنائی جاتی ہے، اس کا تنا بڑھتا ہے تو شاخیں سُوکھ کر جَھڑ جاتی ہیں، درختِ خرما.
اُڑیں روپ پرچم ہو دیسی لگار
ڈولیں باؤ لگ مل کھجوروں کے جھاڑ
بائیں ہاتھ اون کے ایک میدان کھجوروں کا تھا اودھر گئے.
(۱۷۳۲، کربل کتھا، ۱۲۲).
پوستِ کھجور سب کو جلاے اور ... بطور مسّی کے مَلے.
(۱۸۴۴، مفید الاجسام، ۱۷).
دکھاتے ہیں چوٹی وہ زریں کھجور
گیا بھاگ کر سایہ تاڑوں کا دور
لیا کوئی میوے لے کوئی کھجور
غرض لا رکھے سب بلی کے حضور
وہی تمھارے لیے پانی سے کھیتی ، زیتون، کھجور اور انگور اور ہر طرح کے پھل پیدا کرتا ہے.
(۱۹۰۶، الکلام ، ۲: ۲۴۰).
غذائیں جن میں حیاتین ب کم مقدار میں پایا جاتا ہے ... کھجور، ترنج، لیمو.
(۱۹۴۱، ہماری غذا ، ۶۸).
دعا کیلئے ہاتھ بھی اٹھائے اور چلتے ہوئے مدینہ منورہ کی کھجوریں بھی عطا کیں.
(۱۹۸۹، جنیں میں نے دیکھا، ۱۴۴).
سموسے کلچے کھجوروں کا انبار تھا.
(۱۸۹۰، فسانہ دل فریب ، ۱۹).
کم سے کم دو اور زیادہ سے زیادہ سوا دو برس میں بچے کا دودھ چھڑایا جاتا ہے، اس میں کھجوریں تلتے ہیں.
(۱۹۰۵، رسوم دہلی، ۳۴).
دس منٹ کے بعد اتار کر کھجوریں بنالیں.
(۱۹۴۷، شاہی دسترخوان ، ۲۱۴).