۱. تقدیرِ الٰہی ، فرمانِ خدا ، تقدیر ، حکمِ الٰہی (عموماً قضا کے ساتھ مستعمل).
قدر اس رکاب تھے ڈھونڈھے آپ قدر
قضا آپس ماندیا تھا فتراک پر
(۱۶۴۹ ، خاورنامہ ، ۶۷۶ ).
طغراے منا شیرِ قدر و قضا دیباچہ ساتیز خوف دُرجا .
(۱۷۳۲ ، کربل کتھا ، ۲۳).
آگے قدر کے احتیاط اور حذر کام نہیں آتا ہے .
(۱۸۳۸ ، بستان حکمت ، ۳۶).
حکمِ قضا سے بیشک سب کچھ ہوا ہے اب تک
وابستۂ قدر ہے اب انتظام میرا
(۱۹۳۲ ، بے نظیر ، کلام بے نظیر ، ۲).
ہے قدرِ خیر و شر منجانب اللہ
مقدر کا نوشتہ ہے یہ نکبت
(۱۹۶۳ ، کلکِ موج ، ۸۶).
۲. عزّت ، وقعت ، توقیر ، مرتبہ .
جو عاقل ہے یو بات مانے وہی
قدر اس ادا کی پچھانے وہی
(۱۶۰۹ ، قطب مشتری ، ۱۶).
سورج سوں دیا سری سسی کوں
جوں آنک سوں قدر آرسی کوں
(۱۷۰۰ ، من لگن ، ۶).
روشنی کا یہ عالم تھا کہ شبِ قدر کو وہاں قدر نہ تھی .
(۱۸۰۶ ، باغ و بہار ، ۸۷).
بادشاہ خود اس کے دلدادہ تھے خود شاعر تھے شاعروں کی قدر کرتے تھے .
(۱۹۴۷ ، فرحت مضامین ، ۳: ۱۴).
۳. بڑائی ؛ بزرگی ؛ برتری ؛ عظمت .
جو آج رات تجھ قدر کی رات ہے
شبِ قدر اس رات کے ساتھ ہے
(۱۶۴۹ ، خاورنامہ ، ۸۳۲).
وہی قدر فائز کی جانے بہت
جسے عشق کا زخم کاری لگے
(۱۷۱۳ ، فائز دہلوی ، د ، ۱۸۱).
تو ہی جانتا ہے رمضان میں کونسی رات ہزار راتوں کی برابر ہے کس کو خطاب قدر عطا فرمایا .
(۱۹۱۳ ، انتخابِ توحید ، ۸).
۴. اہمیت ؛ حیثیت ؛ درجہ .
اے بھائی اس دعا کی قدر تجھے معلوم ہے یا نہیں .
(۱۶۰۳ ، شرحِ تمہیدات ہمدانی (ترجمہ) ، ۷۶).
افسوس اوں کی قدر کوں تم پوچھتے نہیں
پہچان جانتے نہیں تم دل کے دوستدار
(۱۷۱۸ ، دیوان آبرو ، ۱۲۲).
اپنی جورو سے کہنے لگا کہ میں اب اس شہرِ ناپُرساں میں نہ رہوں گا کیونکہ یہاں کے لوگ میری قدر نہیں جانتے .
(۱۸۰۱ ، طوطا کہانی ، ۳۶).
وہ بھلے مانسوں کی قدر کیا جانے .
(۱۹۰۸ ، صبحِ زندگی ، ۸۵).
۵. طاقت ، قدرت ، رسائی .
کسی غوث کوں نیں ہے وا ملک قدر
جہاں تج ہوا ہے شہنشاہِ صدر
(۱۶۶۹ ، محی الدین نامہ (ق) ، ۱).
تیرے قدر تاں تجھ سزاوار میں
تیرے غیر رب اور کوئی نہیں
(۱۷۹۹ ، قصۂ قاضی و چور ، ۸۲).
منافقت ، استحصال ، دھوکہ بازی پر کھڑا ہوا یہ معاشرہ ہر چیز کے لئے ایک قدر رکھتا ہے .
(۱۹۸۲ ، برشِ قلم ، ۱۰۶).
۶. برابر ، یکساں ، مساوی .
انھوں میں جو کہ ترے محوِ سجدہ رہتے ہیں
نہیں ہے قدر ہزاروں برس کی طاعت کی
(۱۸۱۰ ، میر، ک ، ۲۷۴).
اُس کے لیے ایک کنگنی چار انگشت کے قدر گردا گرد بنائی .
(۱۸۲۲ ، موسیٰ کی توریتِ مقدس ، ۳۶۵).
اتنا بھی نہ کرسکو تو ہم سمجھیں گے کہ دل میں اڑد پر سفیدی کے قدر بھی دین کا درد نہیں .
(۱۹۰۷ ، اجتہاد ، ۴۳).
۷. مقدار ؛ اندازہ ؛ تعداد ؛ حد .
رہیں تیر کش کماں اس قدر
برس تجکو ساتھ ایندھن کریں گے بشر
(۱۷۶۹ ، آخر گشت ، ۵۳).
ہوں تجھ کو کثیر فائدے اے غمگیں
گر اپنی فنا میں تو رہے قدر قلیل
(۱۸۳۹ ، مکاشفاف الاسرار ، ۸۲).
اُس کی عظمت اور کبریائی میں ایک رائی کے دانے کی قدر بھی زیادتی اور افزوئی نہ ہوگئی .
(۱۸۷۷ ، توبۃ النصوح ، ۵۷).
قلعے کی آمدنی میں سے صرف کچھ قدر قلیل تو سرسیّد کی والدہ کے نام جاری رہا .
(۱۸۹۹ ، حیاتِ جاوید ، ۴۸).
معتدل آبِ و ہوا ہے نہر گنگ کی وجہ سے بھی کسی قدر خنکی ہے .
(۱۹۲۴ ، اختری بیگم ، ۱۴۳).
۸. (معاشیات) قوّتِ تبادلہ ؛ اشیا کا تبادلہ اشیا سے ، وہ شے جس سے تبادلہ کیا جاسکے .
قدر کے تعین کے لئے تبادلہ ضروری ہے مگر تبادلہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ کوئی اور فرد بھی ہو جس کے ساتھ تبادلۂ اشیا کیا جاوے .
(۱۹۰۱ ، علم الاقتصاد ، ۱۲).
لفظ معاشیات ... جو پیداوار ، تبادلہ اور صرف کی مد کے قدر وغیرہ سے متعلق ہوتی ہیں .
(۱۹۸۴ ، جدید عالمی معاشی جغرافیہ ، ۸).
۹. قوّت ، حیثیت ، معیار .
ایک اونس چاول کی قدر توانائی ۹۹ حراروں سے ذرا زیادہ ہوتی ہے .
(۱۹۴۱ ، ہماری غذا ، ۱۳۸).
۱۰. طور ، اطوار ، طریقہ .
زندگی کی نئی قدریں قائم ہیں .
(۱۹۶۷ ، اُردو دائرۂ معارفِ اسلامیہ ، ۳: ۶۹۸).
۱۱. وہ نظریہ جسے سب تسلیم کرتے ہوں ، کلیہ .
تعلیمی کام وہی کام ہوسکتا ہے جو کسی ایسی قدر کی خدمت کرے جو ہماری خود غرضی سے پرے ہو اور جسے ہم مانتے ہوں .
(۱۹۴۰ ، تعلیمی خطبات ، ۱۰۱).
تہذیب کی اعلیٰ قدریں مٹتی نہیں ہیں صرف ان کے حامل بدل جاتے ہیں .
(۱۹۵۱ ، تاریخِ تمدنِ ہند ، ۲).
۱۲. (ہیئت) جو دائرہ کہ کوا کبِ دراعہ اور خارج الصورت اور کو کب داہنے بازو اور کوا کبِ دجاچہ سے پیدا ہوتا ہے .
ایک ہزار بائیس کوا کب کو کچھ قدر پر تقسیم کیا ہے .
(۱۸۴۵ ، مطلع العلوم (ترجمہ) ، ۳۳۴).
ایک چھوٹا سا سیّارہ بارہویں قدر کا ہے جس کو مائنڈ صاحب نے ۱۸۵۰ء میں دریافت کیا تھا جس کا نام وکٹوریہ ہے .
(۱۹۰۴ ، سوانح عمری ملکۂ وکٹوریہ ، ۹۵۲).
۱۳. قرآن مجید کی ایک سورت کا نام جو مکّہ میں نازل ہوئی تھی .
(المنجد).
[ ع : (ق د ر) ].
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .