لیتے ہات میں چندر کی آرسی
کاڑے مانگ جیوں کہکشاں سار کی
ہر یک جھاڑ کی بیل اس پر جوں کہکشاں.
(۱۶۳۵، سب رس ، ۴۹).
آنکھ سو جو صرف ابر روشن نظر آتا ہے جسے کہکشاں کہتے ہیں اس میں بہت سے ثوابت کا اجتماع ثابت ہوتا ہے.
(۱۸۴۱، مقاصد علوم ، ۵۶).
کہکشاں کہتی ہے قسمت کا ستارہ چمکا
ہو گا اس راہ سے حضرت کا گزر آج کی رات
لاہور کی روشنیاں تقریباً غائب ہو چکی تھیں دور سے اب وہ زمین پر بچھی ہوئ ایک مدھم سی کہکشاں لگ رہی تھی.
(۱۹۸۷، دامن کوہ میں ایک موسم ، ۹).