سخن تے ہوئے او جو غافل بشر
سخن جس میں ہر سواد کامل بشر
دو روز کامل سبھوں کوں پیاس سے ہلکا اور تھکا.
(۱۷۳۲، کربل کتھا، ۱۳۷).
جاذبہ میرا تھا کامل سو بندے کے وہ گھر آیا
شکر خدا کا کریے کہاں تک عہدِ فراق بسیر آیا
تنقید کامل بصیرت و علم کے ساتھ ، موزوں و مناسب طریقے سے ... حکم لگاتا ہے.
(۱۹۸۹ ، اشارات تنقید ، ۳).
خوبان جگت کے جیو سوں ملتے ہیں ہم ستی
کامل ہوے ہیں بس کہ محبت کے فن میں ہم
کیا پوچھو ہو دیں کے اکابر فاضل کامل صابر رنج
عزت والے کیا لوگوں کو گلیوں میں ان نے خوار رکھا
علمأ کے لیے صدر امین اور صدر الصدور ہونا دشوار نہ تھا بلکہ ایسے کامیلین کے لیے یہ عہدے مخصوص ہو گئے تھے.
(۱۹۱۰ ، امیر مینائی ، مکاتیبِ امیر ، ۱۴).
توں دانی توں گیانی توں داتار ہے
توں فاضل توں کامل توں اوتار ہے
یہ ایک بڑے کامل فقیر نے مجھکو پڑھ دیا ہے.
۱۸۹۰ ، طلسمِ ہوش ربا ، ۴ : ۵۹).
امیر اب کہاں شعر میں کوئی کامل
رہی ہے تو اک بحر کامل رہی ہے
امیر نے چوبیس بحروں میں تالیں ایجاد کی ہیں جن کے اقسام حسبِ ذیل ہیں : بحر کامل . . . بحرِ وافر .
(۱۹۶۰ ، حیاتِ امیر خسرو ، ۱۸۵).