وندی عاقبت کا چہ نہ بوجو قدر
منگیا ہو کہ غدار لڑنے کوں غدر
سب محافے میں اُس کو کر کے سوار
ساتھ دے ایک دایۂ غدّار
اب کس کا اعتبار محبّت میں کیجیے
جب دل سا جاں نثار بھی غدار ہو گیا
بہت سے سکھوں کو ہانک پکار کر کہتے سنا تھا کہ سردار تیج سنگ غدار ہے .
(۱۹۱۰ ، سپاہی سے صوبہ دار ، ۱۸۹)۔
ان کے خیال میں بنگالی بھی اسے غدّار سمجھنے لگے تھے .
(۱۹۸۶ ، سندھ کا مقدمہ ، ۴۴)۔
سو نیں اُس کے دو چاہ غدّار ہیں
کہ سر تین ہور ہات سو چار ہیں
اون دنوں ساری مملکت میں ایسا خوبصورت اور وسیع اور غدّار شہر کوئی نہ تھا .
(۱۸۴۸ ، تاریخ ممالک چین ، ۲۵)
مکان کے بارے میں معلوم ہوا آگرہ شہر غدّار ہے تلاش درکار ہے دیر سویر مل ہی جائے گا .
(۱۹۲۰ ، انشائے بشیر ، ۱۵۶)
اِن کی غدّار سے غدّار آبادی میں نکھٹو چند ہی سو ہوتے ہیں ، ان ہی میں سے رانی اپنا منگیتر چن لیتی ہے .
(۱۹۴۰ ، شہد کی مکھیّوں کا کارنامہ ، ۲۰)