۱۔ (سماجی، اخلاق، مذہبی اور ہر قسم كے رسم و رواج كی) پابندیوں سے الگ تھلگ، رسوم وقیود سے بری۔
حسن تھا پردۂ تجرید میں سب سوں آزاد
طالب عشق ہوا صورت انسان میں آ
(۱۷۰۷، ولی، ک، ۲)
قید مذہب واقعی اک روگ ہے
آدمی كو چاہیے آذاد ہو
(۱۸۵۴، دیوان صبا، غنچۂ آرزو، ۱۲۰)
مدرسہ عمّل كو آزاد تو كرتا ہے مگر
چھوڑ جاتا ہے خیالات كو بے ربط و نظام
(۱۹۳۶، ضرب كلیم، ۸۱)
۲۔ عام دستور یا اصول سے مستثنیٰ، خارج، بالاتر یا میرا۔
نا چال كو چیونٹی كی ہے ناد
كرتار توكان تے ہے آزاد
(۱۷۰۰، من لگن، ۵۶)
كسی جوم كے سبب سزا كے ستوجب نہ ہوتے ٹیكس سے آزاد تھے۔
(۱۸۹۱، ماہ نامہ، حسن، ۴، ستمبر، ۷۳)
جب تک كوٹ ڈی جی كے باشندے چنگی اور دیگر محصولات سے آزاد رہینگے یہ تعلقہ ترقی نہیں كرسكتا۔
(۱۹۵۸، سہ روزہ، مراد، ۶ اكتوبر، ۲)
۳۔ بے فكر، بے غم، بے نیاز۔
غم نہیں ہوتا ہے آزادوں كو بیش ازیک نفس
برق سے كرتے ہیں روشن شمع ماتم كانہ ہم
(۱۸۶۹، غالب، د، ۱۷۷)
نہ جراحات سے ڈر اس كو نہ غم سے ناشاد
حر ہے نام اس كا یہ ہندوں میں ہے شہ كے آزاد
(۱۹۳۸، جلیل (فرزند حسن)، مرثیہ (ق)، ۲۳)
۴۔ بیباک، نڈر، منھ پھٹ
حرمت خدا ہی دیں كی ركھے آج بحشنے
جاتا ہے شیخ سوز سے آزاد كی طرف
(۱۷۹۸، سوز، د، ۵۰)
میرے فالے نے سنائی ہے كھری كس كس كو
منھ فرشتوں پہ یہ گستاخ یہ آزاد آیا
(۱۸۷۸، گلزار داغ، ۵۳)
معلوم ہوتا ہے كہ شاہ شجاع كی آزاد پسندی نے میخواروں كو بہت آزاد كردیا تھا۔
(۱۹۰۷، شعرالعجم، ۲: ۲۱۸)
۵۔ دخل اندازی سے پاک، جو بلا شركت غیرے ہو۔
اب یہ علاقے یہاں كے تمام مسلمانوں كی آزاد ملكیت ہیں۔
(۱۸۷۳، اخبار، مفید عام، آگرہ، ۷جنوری، ۳)
زمین كو قابل زراعت بنانے والی كلوں پر كسانوں كا آزاد قبضہ ہوگا۔
(۱۹۴۱، آزاد سماج، ۶۰)
۶۔ تعلقات اور لوازمات دنیوی سے بے تعلق، تارک الدنیا۔
اے سالک آزاد ہوا تو توں بندہ خدا كا ہو رہے گا۔
(۱۶۶۳، میراں جی خدا نما، شرح تمہیدات ہمدانی، ۳۳۳)
بے تعلق پن بھی آخر قید ہے
قید پائی خاطر آزاد میں
(۱۸۵۵، كلیات شیفتہ، ۵۹)
سرمست گوشہ نشینی كے باوجود بالكل آزاد بھی نہ تھے نواب خیر پور كے یاد كرنے پر ان كی عیادت كے لیے گئے۔
(۱۹۵۳، ہفت روزہ، كلیم، سكھر، ۹مئی، ۳)
۷۔ جس كی راہ میں كوئی ركاوٹ نہ ہو، بے روک ٹوک جاری۔
آج خدا كے فضل سے یہ لكھتا ہوں كہ ۔ ۔ ۔ ۔ اب ڈاک آزاد ہے۔
(۱۹۱۵، خطوط حسن نظامی، ۱: ۲۴)
۸۔ محفوظ، اندیشہ و فكر سے فارغ۔
جو اس ہول محشر سوں كرتوں آزاد
توں فریاد رس ہووے عالم كا داد
(۱۷۱۵، قصۂ خواجہ منصور حلاج (ق)، ۱۲۴)
آزاد ہے عذاب دو عالم سے شیفتہ
جو ہے اسیر سلسلۂ تابدار كا
(۱۸۵۵، كلیات شیفتہ، ۸)
رہتی ہے تازہ ہر دم دل میں تری محبت
آزاد ہر خزاں سے نكلا نہال تیرا
(۱۹۵۳، كلیات ناز، ۳۴)
۹۔ وہ مرد یا عورت جو (قدیم رسم كے مطابق) غلام یا كنیز نہ ہو، جس نے غلامی سے نجات پالی ہو۔
چونكہ بیع دلیل تملیک تھی اور حضرت یوسف آزاد تھے بیع آزاد جائز نہ تھی۔
(۱۸۴۵، احوال الانبیاء، ۱: ۳۳۲)
حركے عقب میں عازم دشت وغا بھی ہے
آزاد بھی ہے سرو ریاض وفا بھی ہے
(۱۹۱۲، شمیم، مرثیہ (ق)، ۵)
۱۰۔ جو محبوس اور قیدی نہ ہو، قید سے رہائی یافتہ، رہا، رستگار۔
پری دندی كے بندتے آزاد ہو
دعا كی شہنشاء كوں شاد ہو
(۱۶۰۹، قطب مشتری، ۶۶)
ان كے آزاد كیے ہو وے جو آزاد كوئی
تو یہ صیاد ابھی ہمسوں كو آزاد كریں
(۱۷۷۴، ائر (سید محمد میر)، د، ۲۰)
جیل جانے كے پہلے بچہ تھا آزاد ہوا تو بوڑھا ہوكر۔
(۱۹۵۴، شاید كہ بہار آئی، ۱۵۷)
۱۱۔ خود مختار (شخص یا جماعت)، جو اپنے ارادے یا فعل میں غیر كا پابند نہ ہو۔
آزاد ریاست
(۱۸۹۱، امیر اللغات، ۱: ۹۶)
آیاد تھے پہلے مگر اس وقت ہیں برباد
كیا جرم كسی كا كہ میں خود فاعل آزاد
(۱۹۴۸، مراثی نسیم، ۳: ۲۰۷)
۱۲۔ كفنی پوش فقیر جو ماتھے پر الف كھینچتے اور چار ابرو كا صفایا كراتے ہیں (یہ نہایت گستاخ اور منھ پھٹ ہوتے ہیں)
چمن میں سوجیوں سرو وشمشاد ہیں
فقیروں منے یو نچھ آزاد ہیں
(۱۶۸۵، معظم بیجاپوری، گنج مخفی (قدیم اردو، ۱: ۲۵۷))
نہیں اس شہر میں كوئی جو آزادوں كا طالب ہو
اداسا كیسے اے وحشت بس اس نگری سے رم كیجے
(۱۸۱۸ء، انشا، ک، ۱۳۴)
داراشكوہ۔ ۔ ۔ ۔ شروع میں حضرت میاں میر (لاہوری) كے سامنے زانوے ادب نہ كركے بیٹھا تھا۔ پھر مجذوب سرمد اور جوگی لال داس جیسے آزاد وں كا معتقد ہوا۔
(۱۹۵۳، تاریخ مسلمانان پاكستان وبھارت، ۱: ۵۲۹)
۱۳: جو اپنی ہی قوم كا محكوم با رعیت ہو، جس پر كسی غیر قوم كی حكومت نہ ہو۔
ملک ہیں اتفاق سے آزاد
شہر ہیں اتفاق سے آباد
(۱۸۷۴، مثنویات حالی، حب وطن، ۸۲)
آزاد كی اک آن ہے محكوم كا اك سال
كس درجہ گراں سیر ہیں محكوم كے اوقات
(۱۹۳۶، ضرب كلیم، ۷۷)
۱۴۔ درست، مستقیم، بیشتر سروسہی كے درخت كی صف میں مستعمل جس كا قامت سیدھا اور دراز ہوتا ہے اور جس پر بہار یا خزاں اثر انداز نہیں ہوتی۔
ہوا بازار گل كا دیكھ تجھ رخسار كو مندا
جو دیكھے تجھ قد آزاد كو طوبیٰ تو ہو بندا
(۱۷۴۱، ناجی (محمد شاكر) (مخزن نكات، ۴۷))
سرو آزاد سے ہیں شرمندہ
سرنگوں ہیں جو بار دار درخت
(۱۸۱۶، دیوان ناسخ، ۱: ۳۴)
اس كی قامت سے ہوا ہے سامنا شمشاد كا
یہ نیا ہے معركہ آزاد سے آزاد كا
(۱۹۰۵، یاد گار داغ، ۱۰)
۱۵۔ شخص مجرد جس كے جورو یا اولاد نہ ہو۔
(امیر اللغات، ۱: ۹۵؛ نوراللغات، ۱: ۹۴)
۱۶۔ جو ہر قسم كی جنبہ داری یا دباو سے دور ہو، مصفانہ، بے لوث۔
تنقید فلسفے كے دائرے میں داخل ہوتی ہے اور ایک بلند اور آزاد ادبی مقام حاصل كرتی ہے۔
(۱۹۹۵، تنقیدی نظریات، ۸)
۱۷۔ حریت پسند، روشن خیال، جدید تہذیب سے متاثر، رجعیت پسند كی ضد، جیسے آزاد خیال (رک)۔
۱۸۔ بے شرم، بے حیا، بے ادب، بے لحاظ
(فرہنگ آصفیہ، ۱: ۱۵۵)
۱۹۔ بے سروسامان، بے برگ و نوا۔
میں آنكھیں بچھاؤں وہ شہ حسن گرآئے
درویش ہوں آزاد ہوں بستر تو نہیں ہے
(۱۸۵۳، دفتر فصاحت، وزیر، ۲۱۹)
[ ف ]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .